امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس رکن الہان عمر کے درمیان کشیدہ بحث چھڑی۔ صدر نے امیگریشن پالیسی پر ڈیموکریٹک قانون سازوں پر تنقید کی اور ان پر سرحدی نفاذ کی حمایت نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
منگل کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کے دوران، ٹرمپ نے قانون سازوں سے کہا کہ اگر وہ اس بات سے متفق ہیں جسے انہوں نے اپنی انتظامیہ کا 'ایک بنیادی اصول' قرار دیا تو کھڑے ہو جائیں۔
انہوں نے کہا، 'اسٹیٹ آف دی یونین کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ امریکیوں کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ واضح طور پر دیکھ سکیں کہ ان کے نمائندے درحقیقت کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے آج رات، میں ہر قانون ساز کو مدعو کر رہا ہوں کہ وہ میری انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک بنیادی اصول کی توثیق کریں۔ اگر آپ اس بیان سے متفق ہیں تو اٹھ کر اپنی رائے کا اظہارکریں۔ حکومت ِامریکہ کی پہلی ذمہ داری امریکی شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، نا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کا۔'
ڈیموکریٹک قانون ساز اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہے، جس پر ٹرمپ نے پلٹ کر سخت انداز میں جواب دیا، 'آپ کو شرمندہ ہونا چاہیے کہ آپ کھڑے نہیں ہوئے۔ آپ کو شرمندہ ہونا چاہیے۔'
صدر نے مزید کہا کہ کانگریس کو ایسے سرکاری اہلکاروں پر سزائیں عائد کرنی چاہئیں جو سنگین الزامات والے غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی اخراجی کارروائیوں میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔
جب ٹرمپ بول رہے تھے تو منیسوٹا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک رکن الہان عمر کو ہاؤس چیمبر کے فرش سے شور مچاتے ہوئے سنا گیا۔
انہوں نے چیخ کر کہا: 'آپ امریکیوں کو مار رہے ہیں!'، 'آپ نے امریکیوں کو مارا ہے!' بعد ازاں انہوں نے چیخ کر کہا: 'تمہیں شرم آنی چاہیے!'












