ترکیہ وزارتِ خارجہ نے پولینڈ کے شہر کراکوف میں دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔
بیان میں وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’’ہمیں، پولینڈ کے شہر کراکوف میں گزشتہ روز ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں قیمتی جانوں کے زیاں پر گہرا دکھ ہے۔ ہم، حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور پولینڈ کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘‘
کیا ہوا تھا؟
پولینڈ کے شہر کراکوف میں 7 نومبر کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تقریباً 3 بجے ایک حملہ آور اپنی گاڑی کے ذریعے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع مین اسکوائر میں داخل ہوا اور گاڑی سے اتر کر وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
فوجی لباس میں ملبوس حملہ آور کی فائرنگ کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک جبکہ 15 دیگر زخمی ہوگئے، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کر دیا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولینڈ کے وزیر داخلہ و انتظامیہ مارسن کیروِنسکی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 24 سالہ حملہ آور پولینڈ کا شہری ہے اور اس نے یہ کارروائی تنہا انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ وہ ’’انتہائی دائیں بازو کے نظریات‘‘ سے متاثر تھا اور اس پہلو سمیت دیگر امکانات کی تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد حملہ آور کے گھر سے تین افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی تھیں، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ اس کے اہلِ خانہ کے افراد ہو سکتے ہیں۔























