دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ انتظامیہ: برّی آپریشن پر غور کر رہی ہے
ٹرمپ انتظامیہ، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضے کے لئے، ایک بّری آپریشن پر غور کر رہی ہے
ٹرمپ انتظامیہ: برّی آپریشن پر غور کر رہی ہے
فائل تصویر: ایک ایرانی سیکیورٹی اہلکار ایرانی شہر اصفہان کے بالکل باہر واقع یورینیم کنورژن سہولت کے ایک حصے سے گزر رہا ہے، 30 مارچ 2005۔ / AP
2 گھنٹے قبل

ٹرمپ انتظامیہ، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضے کے لئے، ایک بّری آپریشن پر غور کر رہی ہے۔

سی این این کے لئے جاری کردہ بیان میں  فوجی حکام نے کہا ہے کہ  یقین ظاہر کیا جا رہا ہےکہ ایران نے بلند درجے کی افزودہ یورینیم  کو زمین دوز ذخیروں میں جمع کر رکھا ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ یورینیم کے اس ذخیرے کو قبضے میں لینے کی فوجی کاروائی میں  امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑی تعداد میں امریکی بّری فوج کی ضرورت پڑے گی۔ افزودہ  یورینیم  کا ایک بڑا حصّہ ایران کی اصفہان جوہری تنصیب پر ہونے  کا امکان ہے۔ اس مواد کو تحویل میں لینا ٹرمپ کے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے حکم سے ہم آہنگ ہو گا۔  

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے یورینیم پر قبضے کے لیے آپریشن  شروع کروایا تو  تو یہ امریکی برّی فوج کی ،جنگ میں،   پہلی وسیع پیمانے کی شرکت ہو گی۔

اگر اس منصوبے کو شروع کیا گیا تو  بلند درجے کی افزودہ یورینیئم کو محفوظ شکل میں نکالنا اور منتقل کرنا ایک پیچیدہ مشن کا متقاضی ہو گااور بہت سے فوجیوں کی جان خطرے میں پڑ جائے گی۔

گذشتہ سال ماہِ جون میں امریکی فضائی حملوں میں تباہ ہونے والی اصفہان جوہری تنصیب میں موجود یورینیئم ،تنصیب کے، زیرِ زمین  ذخیرے میں ہے اور  بالائے زمین عمارت   کے ملبے کو صاف کرنے والے ایرانیوں کے  اسں مواد تک   پہنچنے  کا خطرہ  ہے ۔

امریکی خفیہ ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ ایرانیوں کو  زیرِ زمین سرنگوں تک رسائی حاصل ہے  کہ جہاں یورینیم چھپایا گیا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر تقریباً 200 کلوگرام یورینیم ابھی بھی اصفہان تنصیب میں  موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہ نطنز جوہری مرکز میں بھی  اضافی تابکار مادہ موجود ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام  پرامن ہے لیکن  ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیئم کی  تقریباً 90 فیصد سے زیادہ  افزودگی اسے  جوہری ہتھیار بنانے کے لیے قابل استعمال بنا دیتی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کا یورینیئم اس وقت تقریباً 60 فیصد تک افزودہ ہے۔

ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار بنانےکی اجازت نہیں دی جائے گی۔گذشتہ ماہ جاری کردہ بیان میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ "ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ میں  کبھی بھی دنیا کے دہشت گردوں کے نمبر ایک  سرپرست کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا"۔

دریافت کیجیے
اسرائیل، ایران کے ساتھ کم از کم ایک ماہ تک جنگ کے لیے تیار ہے
ایران نے خامنہ ای کےفرزند مجتبی کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا — ایرانی میڈیا
ٹرمپ کا دعوی: امریکہ نے ایرانی بحریہ اور میزائل لانچنگ سسٹمز کو تباہ کر دیا ہے
امریکہ اور اسرائیل ایران کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں:لاریجانی
اوسلو: امریکی سفارت خانے پر بم حملہ
چند امریکی فوجی  قیدی بنالیے گئے ہیں:لاریجانی
ایران کی فضائی حدود کنٹرول میں ہے،جنگ جاری رکھیں گے:نیتن یاہو
غیر قانونی آبادکاروں کی فائرنگ،2 فلسطینی ہلاک
ترکیہ کے مشرق وسطی میں اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے