300 سے زائد فرموں نے ایٹمی ہتھیاروں میں سرمایہ کاری میں تیزی لائی ہے — رپورٹ
جوہری طاقتیں یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات میں ملوث ہیں اور طویل عرصے سے جاری عدم ابلاغ اور غیرپھیلاؤ کی کوششیں کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں، تو ایک نئی جوہری اسلحہ دوڑ کا خطرہ ابھرتا  دکھائی دے گا۔
300 سے زائد فرموں نے ایٹمی ہتھیاروں میں سرمایہ کاری میں تیزی لائی ہے — رپورٹ
روس، امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا فی الحال اپنے اسلحہ خانوں کو جدید بنا رہے ہیں اور اکثر انہیں وسعت دے رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق۔ / TRT World

اینٹی نیوکلیئر مہم چلانے والوں  کا کہنا ہے کہ فنانس ادارے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں اور خبردار کیا  ہے کہ یہ رجحان ایسے وقت میں فوجی اخراجات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے جب عالمی تنازعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جب جوہری طاقتیں یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات میں ملوث ہیں اور طویل عرصے سے جاری عدم ابلاغ اور غیرپھیلاؤ کی کوششیں کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں، تو ایک نئی جوہری اسلحہ دوڑ کا خطرہ ابھرتا  دکھائی دے گا۔

جمعہ کو جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں، نوبل امن انعام یافتہ بین الاقوامی مہم برائےانسدادِ جوہری ہتھیاراور ایک اور اینٹی نیوکلیئر تنظیم PAX نے  واضح کیا ہے کہ  بڑھتی ہوئی تعداد میں مالیاتی ادارے اُن کمپنیوں میں سرمایہ کاری یا فنانسنگ کر رہے ہیں جو دنیا کی 9جوہری ریاستوں کے ہتھیاروں کو بڑھانے اور جدید بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 تک 301 بینک، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں اور دیگر مالیاتی اداروں نے اُن کمپنیوں میں فنانسنگ یا سرمایہ کاری  کی تھی جو جوہری ہتھیار بنانے میں شامل ہیں۔

یہ ایک سال قبل کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ تھا، جو کئی سالوں کی کمی کا  متضاد ہے۔

خطرناک

ICAN کی ڈائریکٹر سوسی سنائیڈر، جو اس رپورٹ کی شریک مصنفہ بھی ہیں، نے کہا"برسوں بعد پہلی بار اسلحہ کی  دوڑ سے منافع کمانے کی کوشش میں ہونے والے سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔

انہوں نے ایک بیان میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ"یہ ایک مختصر المدت اور خطرناک حکمتِ عملی ہے جو سنگین سطح کے پر تشدد واقعات میں اضافے کا موجب  ہے، اسلحہ کی دوڑ سے منافع کمانا اس دوڑ میں تیزی لائے  بغیر ناممکن ہے۔"

رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا کی9 جوہری  طاقتیں  یعنی روس، امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا ،  اس وقت اپنے ہتھیاروں کو جدید بنا رہی ہیں اور ان ذخائر کو بڑھا بھی رہی ہیں، اور اسی عمل سے ان ہتھیاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

فروری میں نیو اسٹارٹ — روس اور امریکہ کے درمیان آخری باقی معاہدہ جو جوہری وار ہیڈز کی تعیناتی کو محدود کرتا تھا — کی مدت ختم ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی بڑے دفاعی ٹھیکیداروں کی اسٹاک مارکیٹ کی قدروقیمت تیزی سے بڑھی ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ روسی خطرے اور اس بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر کہ یورپ اب واشنگٹن کی حفاظت پر بھروسہ نہیں کر سکتا، کئی حکومتوں نے دلیل دی ہے کہ یورپ کی دوبارہ اسلحہ آرائی میں سرمایہ کاری کو اخلاقی پہلوؤں کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔

709 بلین  ڈالر کی سرمایہ کاری

جمعہ کی رپورٹ نے 25 کمپنیوں کی شناخت کی ہے جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ہیں، جن میں ہنی ویل انٹرنیشنل، جنرل ڈائنامکس اور نورتھروپ گرومن سب سے زیادہ کماتی ہیں۔

دوسرے بڑے پیدا کنندگان میں BAE سسٹمز، بیچ ٹل اور لاک ہیڈ مارٹن شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اُن کمپنیوں میں حصص اور بانڈز کی قدر کے لحاظ سے سب سے بڑے تین سرمایہ کار امریکی کمپنیاں وینگارڈ، بلیک راک اور کیپیٹل گروپ تھیں۔

جنوری 2023 سے ستمبر 2025 تک، رپورٹ کے بقول، سرمایہ کاروں کے پاس ان 25 جوہری ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں حصص اور بانڈز کی صورت میں 709 بلین ڈالر سے زائد رکھے گئے تھے — جو پچھلے تجزیاتی دورانیے کے مقابلے میں 195 بلین ڈالر سے زائد کا اضافہ ہے۔

اسی دوران، تقریباً 300 بلین ڈالر قرضوں اور انڈر رائٹنگ کی شکل میں جوہری ہتھیار سازوں کو فراہم کیے گئے، جو پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں تقریباً 30 بلین ڈالر کا اضافہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹاپ تین قرضہ دہندگان  بینک آف امریکہ، جی پی مورگن چیس اور سِٹی گروپ تھے۔

ساتھ ہی رپورٹ نے زور دیا کہ متعدد مالیاتی اداروں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق سرمایہ کاری ترک کرنا ممکن ہے جبکہ خوب منافع کمائے جا سکتے ہیں۔

مہم چلانے والوں نے کہا کہ 2025 کے اختتام تک اُن اداروں کے زیرِانتظام اثاثوں کی کل قدر، جو واضح طور پر ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں، 4 ٹریلین ڈالر سے زائد تھی۔