ترکیہ نے، اسرائیلی پارلیمنٹ 'کنیسٹ' کے منظور کردہ اور صرف فلسطینیوں پر نافذ ہونے والے، سزائے موت قانون کی مذّمت کی ہے ۔
ترکیہ وزارتِ خارجہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ "یہ قانون، قابض قوّت 'اسرائیل' کے فلسطینیوں کے خلاف، نسلی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ "یہ قانون فلسطینی عوام کو نشانہ بنانے والی تکذیبی، انسان کُش اور سیاسی سزا پالیسیوں کا ایک نیا اظہار ہی نہیں غیرقانونی اورغیر آئینی بھی ہے"۔
وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری سے بھی اسرائیل کے ان "نسل پرستانہ اور غیرقانونی اقدامات" کا جواب دینے کی اپیل کی ہے۔
روزنامہ 'یدیوت اہارونوت' کے مطابق یہ بل دوسری اور تیسری پڑھائی میں 47 منفی کے مقابلے میں 62 مثبت ووٹوں سے منظور ہو گیا ہے۔ رائے شماری میں ایک ووٹ ہچکچاہٹ میں رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
رائے شماری کے بعد اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن-گِویر نے اس قانون کا خیرمقدم کیا اور اسے "تاریخی دن" قرار دیا ہے۔














