فرانس اور دیگر 25 ممالک کے علاوہ، یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی نے ایران کے مظاہرین کو سزائے موت دینا جاری رکھنے کی سخت ترین الفاظ میں مذّمت کی ہے۔
فرانس وزارتِ خارجہ نے بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ "مخالفین کو خاموش کرانے،شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور اپنے بنیادی حقوق کے استعمال پرافراد کو سزائے موت دینے کو کسی صورت بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا"۔
بیان پر دستخط کرنے والے ممالک نے زور دیا ہے کہ "ایرانی عوام کو بغیر کسی خوف کے آزادیِ اظہار اور پُرامن اجتماع کے حق کا استعمال کرنے کے قابل ہونا چاہیے"۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم، ایرانی حکومت سے سزائے موت پر عمل درآمد کو فوری طور پر بند کرنے اورمن مانی شکل میں حراست میں لئے گئے تمام افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔
بیان میں ایران سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہےکہ وہ تبدیلی کا مطالبہ کرتی عوام کی آواز سُنے اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
اس بیان پر فرانس، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا، ڈنمارک، اسپین، نیوزی لینڈ، نیدرلینڈز، پرتگال، سویڈن اور برطانیہ سمیت دیگر 25 ممالک کے علاوہ یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی 'کایا کالاس 'نے بھی دستخط کیے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق ان بیانات پر مذکورہ ممالک کو منافقت کا قصوروار ٹھہرایا اور ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ "فرانس جیسے ممالک کو دنیا کو ’انسانی حقوق‘ اور بین الاقوامی قانون کے درس دینا بند کر دینا چاہیے۔ منافقت بالکل واضح اور شرمناک ہے۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں جاری نسل کشی کی حمایت اور ایران کے خلاف آپ کی جارحیت نے آپ کے اپنے بارے میں ہر قسم کے اخلاقی برتری کے غرور کو ختم کر دیا ہے"۔






















