یوکرین مسلح افواج نے 'ڈنیپروپیٹرووسک' میں 100سے زائد دنوں سے جاری جوابی حملوں کے بعد پانچ دیہات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔
یوکرین مسلح افواج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ "آبادیوں کو قبضے میں لینے کی کاروائیاں 2025 کے موسمِ خزاں میں شروع ہوئیں اور سو سے زیادہ دنوں تک جاری رہیں۔ یہ آپریشن 20ویں کور کی مدد سے 225ویں خودمختار اسالٹ رجمنٹ نے کئے ہیں۔
225ویں خودمختار اسالٹ رجمنٹ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس کا تیسرا اسالٹ بٹالین پورے آپریشن کے دوران پوزیشنیں سنبھالے رہا اور مسلسل حملے کرتا رہا ہے۔ یہ پیش قدمی ہماری جنگی تاریخ میں "ایک منفرد واقعہ" تھی۔
بیان کے مطابق، اس آپریشن میں شامل تمام عملے کو ریاستی اعزازات کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
رجمنٹ نے مزید کہا ہے کہ لڑائی میں شامل فوجیوں کے بیانات اورفوجیوں سے متعلقہ تفصیلات آنے والے دنوں میں جاری کی جائیں گی۔
یہ دعوے ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب مشرقی اور جنوبی یوکرین میں محاذ مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں اور دونوں جانب سے مقامی نوعیت کے حملے کیے جا رہے ہیں۔
'ڈنیپروپیٹرووسک'، ڈونیتسک اور زاپوروژیا کے گرم محاذوں سے نزدیک ہونے کی وجہ سے، دُور مار حملوں اوربرّی حملوں کا مسلسل ہدف بنتا رہا ہے۔
روس نے ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔











