شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ رائے عامہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو غلط سمجھ رہی ہے۔
دبئی کے 'المشهد' ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شرع نےکہا ہے کہ عوام میں ٹرمپ کے بیانات کو غلط تشریح کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے لبنان میں جنگ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ شام، لبنان کے ساتھ مربوط شکل میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
شرع نے کہا ہے کہ "شام نئی خارجہ پالیسی کے تحت لبنان کے بحران کے حل میں فعال اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔شام میں انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ خطے میں نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں لیکن بعض لبنانی فریق ابھی تک ماضی کے زیرِ اثر حرکت کر رہے اور پرانے دور کی ذہنیت کے مطابق سوچ رہے ہیں"۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں میں ہم لبنان کے حالات کو کئی بار زیرِ بحث لائے اور موجودہ نقطۂ نظر سے مختلف نقطہ نظر پیش کیا ہے۔لبنان کے مسئلے کو صرف بمباری، تباہی اور بے دخلی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں میں ہم نے جنگ کے خاتمے پر زور دیا اور کہا ہے کہ مسئلے کا حل صرف فوجی طریقوں سے ممکن نہیں ہے علاقے میں اقتصادی، سیاسی اور سماجی اقدامات کی بھی ضرورت ہے"۔
شرع نے زور دیا ہےکہ "لبنان میں شام کے کردار کا مقصد نئی قطبی تقسیم پیدا کرنا نہیں بلکہ حل تلاش کرنا ہے ۔ہم ماضی والے لبنان میں شام کی عسکری مداخلت کے موقف کی طرف واپس جانا نہیں چاہتے"۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ حزب اللہ کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنا قبول کریں گے؟ شرع نے کہا ہے کہ "اگر یہ قدم لبنان کے مفادات کے لیے ہوا اور ساتھ ہی شام کے مفادات کو بھی تحفظ فراہم کرے تو کیوں نہیں؟ ہمارے حزب اللہ کے ساتھ گہرے اختلافات ہیں۔ تاہم اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کے دوران ہم نہیں چاہتے کہ لبنان قیمت ادا کرکے تباہ ہو جائے۔ ہم مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ لبنان زندہ رہے"۔















