ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور ایران کے ساتھ امریکی-اسرائیلی جنگ ختم کی جائے۔
نیو یارک ٹائمز نے گمنام ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کو پیر کے روز وائٹ ہاؤس سچویشن روم کی میٹنگ کے دوران تہران کے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس میں امریکہ کا اہم آبی راستے پر اپنی ناکہ بندی ختم کرنا بھی شامل ہے، ۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ٹائمز کو بتایا کہ امریکہ پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا ہم نے اپنے تحفظات کے بارے میں واضح کیا ہے اور صدر صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکی عوام اور دنیا کے لیے اچھا ہو۔
ایکسیوس نے پہلی بار اتوار کو اس تجویز کی رپورٹ دی، جب اس نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ تجویز پاکستانی ثالثوں کے حوالے کی ہے ۔
ایکسیوس کے مطابق، اس تجویز کے تحت جنگ بندی طویل مدت کے لیے بڑھائی جائے گی یا مستقل ہو جائے گی، جبکہ جوہری مذاکرات صرف اس وقت شروع ہوں گے جب آبنائے کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کی ایک اور تجویز کو مسترد کر دیا، اور پاکستان میں وہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے جو اواکر ہفتہ اسلام آباد میں ہونے والے تھے۔
امریکی حکام نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ایران نے مذاکرات کاروں کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی رعایت دینے کی اجازت نہیں دی جس سے امن مذاکرات کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں بحث اب اس بات پر گھومتی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے دوران کتنا معاشی درد برداشت کر سکتا ہے، اور اس کے ایرانی معیشت پر اس کے اثرات کیا ہیں۔
ٹائمز نے بتایا کہ تیل کی پیداوار تیزی سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش سے زیادہ ہو رہی ہے، اور کنویں بند نہیں کیے جا سکتے اگر انہیں بند کر دیا گیا تو نمایاں نقصان ہو سکتا ہے اور انتظامیہ کے کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ایران اخراجات برداشت کرنے کے بجائے معاہدہ کرے گا، ۔














