امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز پیر سے آبنائے ہرمز سے غیرجانبدار غیر ملکی جہازوں کو محفوظ طور پر اسکورٹ کرنا شروع کریں گے اور اس کوشش کو ایک انسانی ہمدردی کا اشارہ قرار دیا۔
ٹرمپ نے اس اقدام کا نام "پراجیکٹ فریڈم" رکھا اور کہا کہ کئی پھنسے ہوئے جہاز بنیادی ضروریات سے کم پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹ کان نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ایران کی جنگ ختم کرنے کی تازہ تجویز کا مطالعہ کیا اور اسے ناقال قبول پایا ہے ۔
مسترد کرنے کے باوجود امریکہ نے اتوار کو تہران کے تازہ 14 نکاتی مطالبے کے جواب میں ایک نیا ترمیم شدہ ڈرافٹ معاہدہ جمع کرایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی کہ اس کی افواج 4 مئی سے پراجیکٹ فریڈم کی حمایت شروع کریں گی تاکہ بحری جہاز رانی کی آزادی بحال کی جا سکے۔
اس مشن کو پروجیکٹائلزمیزائلوں والے ڈسٹرائرز، 100 سے زائد طیاروں اور 15,000 اہلکاروں کے ساتھ تقویت دی گئی ہے۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ اس دفاعی مشن کی ہماری حمایت علاقائی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ نے بحری محاصرہ برقرار رکھا ہے ۔
یہ اعلان اس وقت آیا جب یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے رپورٹ کیاکہ ایک ٹینکر کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے تقریباً 125 کلومیٹر شمال میں نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا تھا البتہ تمام عملہ محفوظ ہے تاہم، حملے کی اصل وجہ یا ماخذ ابھی معلوم نہیں ہوا۔
ٹرمپ کے تازہ اعلان کے جواب میں ایران کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ ہرمز کے پانیوں میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔















