غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
مستقل جنگ بندی چاہیئے تو حماس غیر مسلح ہو جائے: اسرائیل
ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اگر دونوں فریق مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی پر راضی ہوجاتے ہیں تو اسرائیل مستقل جنگ بندی کی پیش کش  کا سوچ سکتا ہےجس کے لئے فلسطینی مزاحمتی گروپ کو غیر مسلح  ہونا پڑے گا
مستقل جنگ بندی چاہیئے تو حماس غیر مسلح ہو جائے: اسرائیل
/ Reuters
10 جولائی 2025

اسرائیل اور حماس ایک یا دو ہفتوں کے اندر غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، لیکن اس طرح کا معاہدہ ایک دن میں حاصل ہونے کی توقع نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران بات کرتے ہوئے عہدیدار نے بدھ کے روز کہا کہ اگر دونوں فریق مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی پر راضی ہوجاتے ہیں تو اسرائیل مستقل جنگ بندی کی پیش کش  کا سوچ سکتا ہےجس کے لئے فلسطینی مزاحمتی گروپ کو غیر مسلح  ہونا پڑے گا۔

عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر حماس انکار کرتی ہے تو ہم نسل کشی  جاری رکھیں گے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ وزیر اعظم  نیتن یاہو پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ناکہ بندی والے علاقے میں جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کریں۔

قبل ازیں، اسرائیل کے حزب اختلاف کے مرکزی رہنما یائر لاپید نے جنوبی غزہ میں نام نہاد 'موراگ محور' کو جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سرکاری نشریاتی ادارے 'کے اے این' کو دیے گئے ایک ریڈیو انٹرویو میں لاپید نے کہا کہ نیتن یاہو ایک معاہدے کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب اچانک موراگ محور ہمارے وجود کی نئی بنیاد بن گیا ہے۔

 اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے اب تک محصور غزہ میں 57,500 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق تقریبا 11 ہزار فلسطینیوں کے تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد غزہ میں فلسطینی حکام کی رپورٹ سے کہیں زیادہ ہے اور اندازے کے مطابق یہ تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

نسل کشی کے دوران ، اسرائیل نے زیادہ تر علاقے کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا اور عملی طور پر اس کی تمام آبادی کو بے گھر کردیا۔

اس نے انتہائی ضروری انسانی امداد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے اور صرف امریکہ کی حمایت یافتہ متنازع امدادی گروپ کو اجازت دی ہے، جو اقوام متحدہ کے امدادی کام کو نظر انداز کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اسے "موت کا جال" قرار دیا گیا تھا۔

دریافت کیجیے
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
امریکی خفیہ رپورٹ کے مطابق چین ایران کو دفاعی فضائی نظام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
امریکی نائب صدر جے ونس امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے
اسرائیل کا دعویٰ: ہم  نے ایران جنگ کے دوران 10,800 ہوائی حملے کیے ہیں
میلانیا ٹرمپ: میرے  جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک