آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ترکیہ کے شمال مغربی میں ایک قدیم رومی تھیٹر کے قریب بازنطینی دَور سے تعلق رکھنے والے ایک قبرستان کی کھدائی کے دوران ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جنہیں محققین اناطولیہ میں طاعون کے قدیم ترین کیس کے طور پر قرار دے رہے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران ترکیہ کی تحصیل ازنک میں رومی تھیٹر کے جنوب میں واقع ایک نیکروپولس میں مردوں۔ عورتوں اور بچوں سمیت تقریباً 20 انسانی ڈھانچوں کی دریافت کی گئی۔ ضلع برصا سے منسلک ازنک ایک تاریخی تحصیل ہے، جو قدیم دور اور بازنطینی عہد میں آبادی کا ایک اہم مرکز رہی۔
کھدائی ٹیم کی سربراہ اور ازمیر کی دوکوز ایلول یونیورسٹی میں آثارِ قدیمہ کی پروفیسر آئی گون ایکن مَریچ نے کہا ہے کہ "ہڈیوں کے اوّلین تجزیئوں میں اناطولیہ میں طاعون کے معلوم قدیم ترین کیس کے آثار ملے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم دریافت ہے۔"
یہ دریافت ازنک میں موجود قدیم ترین اور اہم ترین عمارتوں میں شمار ہونے والے رومی تھیٹر کے اطراف میں جاری کھدائی کے دوران ہوئی ہے۔ اس مقام کی ابتدا رومی دور سے ہوئی اور آبادی کے پھیلاؤ کے ساتھ بازنطینی دور میں اسے مذہبی اور تدفینی رسومات جیسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
صدیوں کے دوران متعدد استعمال
تھیٹر میں کھدائی کا کام 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تھا اور 2016 سے دوکوز ایلول یونیورسٹی کی ایک ٹیم اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مقام صرف تفریحی اور تھیٹر کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تھیٹر کے اطراف بعد کے ادوار سے تعلق رکھنے والی مذہبی عمارتوں، گرجا گھروں، قبرستانوں اور اینٹوں کی بھٹیوں کے آثار بھی دریافت کیے ہیں۔
مریچ نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ زیادہ تر تدفینیں بظاہر انفرادی قبروں میں کی گئی تھیں اور ان کا تعلق عموماً بازنطینی دور سے ہے۔
لاشوں کو عموماً مشرق کی جانب رخ کرکے دفن کیا گیا تھا اور ان کے ہاتھ پیٹ کے اوپر رکھے گئے تھے۔ یہ طریقہ مسیحی تدفین کی روایات سے مطابقت رکھتا ہے۔ قبریں سطحِ زمین سے تقریباً ایک میٹر نیچے دریافت ہوئیں۔ بعض قبریں کسی دوسری قبر کے اوپر واقع تھیں، جبکہ کچھ الگ تھلگ تھیں۔
مریچ کے مطابق، ان افراد کے ساتھ بہت کم اشیا دفن کی گئی تھیں، جن میں چند موتی بھی شامل تھے۔
ہڈیوں کو دستاویزی شکل دینے اور صاف کرنے کے بعد تجزیے اور مزید تحقیقات کے لیے ایک کھدائی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی، امریکا کی رٹگرز یونیورسٹی اور ترکی کی مختلف جامعات کے ماہرین بھی اس مقام پر جاری تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔
قدیم طاعون کی وبا کے شواہد
طاعون سے متعلق شواہد علاقے سے ملنے والی ہڈیوں کے اوّلین تجزیوں کے دوران سامنے آئے۔ مریچ کے مطابق، یہ دریافت اناطولیہ میں بیماریوں کی تاریخ کو سمجھنے کے حوالے سے خاص طور پر اہم ہے۔
شمال مغربی اناطولیہ میں واقع ہونے کی وجہ سے ازنک صدیوں تک ایک اہم آبادی اور تجارتی و سفری گزرگاہ رہا ہے۔ اس دریافت نے ازنک کے آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ میں ایک نئی اور اہم جہت کا اضافہ کیا ہے۔
رومی تھیٹر رومی دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اسے مسلسل استعمال اور تبدیل کیا جاتا رہا۔ جب اس کا اصل مقصد ختم ہوگیا تو اس کے اردگرد کے بعض حصوں کو مذہبی، رہائشی، پیداواری اور تدفینی مقاصد کے لیے دوبارہ منظم کیا گیا۔
تھیٹر کے مرکزی حصوں کو کھدائی اور بحالی کے کام مکمل ہونے کے بعد 2024 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
مریچ نے بتایا کہ موجودہ سیزن کے اختتام تک کھدائی کا کام جاری رہے گا اور محققین اس تحقیق کو مقام کے دیگر حصوں تک بھی وسعت دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ان کے اندازے کے مطابق ازنک کے تھیٹر کمپلیکس سے متعلق باقی ماندہ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات مکمل ہونے میں تقریباً مزید چار سال لگ سکتے ہیں۔

















