یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے یوکرین کی انٹیلیجنس اور فوج کو چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں استعمال ہونے والی روسی تنصیبات کے خلاف پیشگی کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بدھ کے روز اپنے ایک ویڈیو خطاب میں زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے دن کے آغاز میں ڈیفنس انٹیلیجنس کے سربراہ اولیہ ایواش چینکو سے ایک بریفنگ لی، جس میں یوکرین کی توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملے بھی شامل تھے۔ یوکرینی رہنما نے دعویٰ کیا کہ ملک کے انٹیلیجنس اداروں کو روس کی کچھ ایسی دستاویزات" ملی ہیں جن کے مطابق ماسکو نے ان حملوں کو شدید درد کے ساتھ محسوس کیا ہے۔
اس تناظر میں یوکرین کی جانب سے محاذ سے 1200 کلومیٹر سے زیادہ دوری پر موجود اہداف سمیت متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زیلنسکی نے بتایا کہ روسی فوج کے مواصلاتی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرینی رہنما نے کہا کہ میں نے اپنے انٹیلیجنس اداروں اور فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان تنصیبات کے خلاف پیشگی اقدامات کریں جنہیں روسی جنگ کو تیز کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ ماسکو اس وقت اپنے فضائی دفاعی اثاثوں کا ایک حصہ روسی دارالحکومت کی طرف منتقل کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روس کے 60 سے زائد علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔
روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے حالیہ ڈرون حملوں کے بعد، متعدد تنصیبات نے مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کی وجہ سے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اس صورتحال نے ماسکو کو مجبور کیا ہے کہ وہ ملکی ایندھن کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے مقصد سے وقتاً فوقتاً پابندیاں نافذ کرے۔
حالیہ دنوں میں تومین اور تاتارستان سمیت کئی علاقوں کے مقامی حکام نے ایندھن کی فروخت پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
کریمیا میں روس نواز حکام نے اواخر ہفتہ پر اعلان کیا کہ عام شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے ایندھن کی فروخت مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے اور ترسیل کو صرف ضروری عوامی خدمات کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔
اس مہینے کے شروع میں یوکرینی جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی افواج نے روس کی 16 بڑی آئل ریفائنریوں اور فیول ٹرمینلز پر حملے کیے ہیں، جس سے ریفائننگ کی 30 فیصد سے زیادہ صلاحیت ناکارہ ہو گئی ہے۔















