روسی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ جب دونوں جانب حملوں میں شدت آئی ہے تو اس کے فضائی دفاعی سسٹم نے رات بھر 323 یوکرینی ڈرون گرا ئے ہیں ۔
علاقائی گورنر نے کہا کہ روس کے اورینبرگ علاقے میں ایک صنعتی تنصیب کو نشانہ بنانے والے ڈرون مار گرائے، مگر نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔
یہ حملہ روسی علاقے کے کافی اندر تک یوکرینی حملوں کی ایک کڑی میں شامل ہے، جن کے بارے میں کیف کا کہنا ہے کہ وہ ماسکو کی جنگی کارروائیوں کی فنڈنگ کرنے والی تنصیبات، تیل کے گوداموں اور ریفائنریز کو ہدف بناتے ہیں۔
روس کی طرف سے تعینات گورنر میخائل رازووژائیف نے ٹیلی گرام پر کہا ہے کہ جب یوکرینی ڈراونز نے سیواستوپول، جو روسی الحاق شدہ کریمیا کا سب سے بڑا شہر ہے، کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ بدھ کے اوائل میں شہر کے اوپر9 ڈراونز کو روک لیا گیا تھا۔
رازووژائیف نے رہائشیوں سے کہا کہ وہ کمزور پڑوسیوں کا خیال رکھیں اور فون کا استعمال ہنگامی رابطوں تک محدود کریں، انہوں نے کیف پر شہریوں کو بنیادی خدمات سے محروم کر کے "خوف پھیلانے" کی کوشش کا الزام لگایا۔
کریمیا، جسے 2014 میں روس نے الحاق کر لیا تھا، اپنی لاجسٹک اہمیت کی وجہ سے روسی افواج کے لیے باقاعدگی سے یوکرینی میزائل اور ڈرون حملوں کا ہدف بنتا رہتا ہے۔
خرکیف میں ہلاکت خیز حملہ
علاقائی فوجی سربراہ اولیک سینیگوبوف نے ٹیلی گرام پر کہا کہ یوکرین کے خرکیف علاقے میں، رات کے وقت ایک ڈرون حملے میں ایک 56 سالہ خاتون ہلاک ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایک 21 سالہ خاتون کو اس حملے میں شدید ذہنی دباؤ کی شکار ہوئی۔
رائٹرز تازہ ترین حملوں کی تفصیلات دونوں طرف سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
یہ تبادلہ اس وقت ہو رہا ہے جب حالیہ ہفتوں میں روس اور یوکرین نے حملوں میں شدت بڑھا دی ہے، اور یورپ کے سب سے مہلک تنازعے کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔
روس نے اپنے پانچ سالہ حملوں میں تقریباً روزانہ ہی میزائلوں اور ڈراونز سےیوکرین کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ یوکرین نے روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف اپنی طویل فاصلے تک ہدف مہم کو وسیع کر دیا ہے۔












