غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
ایم ایس ایف: اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں طبی سامان کی فراہمی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے
ڈاکٹر رندا ابو الخیر مسعود، جو ایم ایس ایف کی میڈیکل ایڈوائزر ہیں، نے کہا کہ یکم جنوری سے تنظیم غزہ میں کوئی طبی ساز و سامان داخل نہیں کر سکی، حالانکہ علاقے میں انسانی نوعیت کی شدید ضروریات ہیں۔
ایم ایس ایف: اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں طبی سامان کی فراہمی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے
اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں اپنی نسل کشی کے دوران 72,000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ (فائل) / Reuters

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ، اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں طبی ساز و سامان کے داخلے پر عائد پابندیوں نے سنگین قلت پیدا کر دی ہے، جس سے طبی خدمات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

ڈاکٹر رندا ابو الخیر مسعود، جو ایم ایس ایف کی میڈیکل ایڈوائزر ہیں، نے کہا کہ یکم جنوری سے تنظیم غزہ میں کوئی طبی ساز و سامان داخل نہیں کر سکی، حالانکہ علاقے میں انسانی نوعیت کی شدید ضروریات ہیں۔

مسعود کا کہنا ہے کہ " روزانہ، ہمارے ہسپتالوں اور کلینکس میں ہم غزہ، فلسطین میں طبی ساز و سامان کے داخلے پر پابندیوں کے اثرات  سامنے آتے ہیں۔ غزہ میں ضروریات بہت زیادہ ہیں، مگر کافی امداد داخل نہیں ہو رہی کیونکہ اسرائیلی حکام اسے روکے ہوئے ہیں۔"

انہوں نے خبردار کیا کہ غیر متعدی بیماریوں کے لیے ضروری ادویات میں سے تقریباً 50 فیصد کی سطح پر خطرناک حد تک کم ہیں، جن میں ذیابیطس، بلند فشارِ خون، تھائیرائڈ کے  امراض اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔

کمی کی وجہ سے، ایم ایس ایف نے غیر متعدی بیماریوں کے اپنے پروگراموں میں نئے مریضوں کا داخلہ روک دیا ہے اور علاج صرف موجودہ مریضوں تک محدود رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا"مناسب نگہداشت کی اس قلت کے نتیجے میں لازمی طور پر دائمی بیماریوں کے شکار مریضوں میں ایسی اموات ہوں گی جن سے بچا جا سکتا تھا۔

تنظیم کو بنیادی طبی اشیاء جیسے گیز اور کمپریس کے فقدان کا بھی سامنا ہے، خاص طور پر بعد از آپریشن مریضوں اور جلنے کے زخمیوں کے لیے  علاج معالجے کی خدمات متاثر ہو رہی ہیں ۔

گزشتہ محاصرے کے دوران، اگست اور ستمبر 2025 کے درمیان، ایم ایس ایف کی ٹیمیں غیر جراثیم کش گیز کو بیچوں میں جراثیم کش کرکے استعمال کرنے پر مجبور ہو گئی تھیں، جو کہ انفیکشن کے خطرات کی وجہ سے آخری چارہ سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ"اب ہم دوبارہ اس نقطے کے قریب ہیں۔"

طبی ساز و سامان کی قلت طبی خدمات پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔ مسعود نے کہا کہ اس سال غزہ میں کوئی نیا آلات یا پرزے داخل نہیں ہوئے، جس کے باعث بار بار خرابیاں پیش آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا"ہماری ٹیمیں نگہداشت فراہم جاری رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں، مگر وہ انتہائی دباؤ میں ہیں،" اور زور دیا کہ ہنگامی اقدامات مستقل طبی ساز و سامان تک رسائی کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔

 

 

دریافت کیجیے
سربراہ فوج کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں
تھائی لینڈ میں ایک نوجوان نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں دھاوا بول دیا
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ
امریکا نے برازیل کے سفیر کے ویزے کو منسوخ کر دیا