شمالی کوریا نے جاپان کے جدید ٹوماہاک کروز میزائل تجربے کی مذمت کی اور جاپان کو "جنگی جرائم کی مرتکب ریاست" قرار دیا ہے۔
شمالی کوریا سنٹرل نیوز ایجنسی 'کے سی این اے' کے مطابق، شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ جاپان کی "جنگی دور سے برقرار توسیع پسندانہ سوچ" کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ چوکس رہے۔
برسرِ اقتدار ورکرز پارٹی آف کوریا کی اعلیٰ عہدیدار 'کم یو جونگ' نے کہا ہے کہ"اب یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اس قسم کے اقدامات دراصل فوجی طاقت بننے کی خواہش کو چھپانے کی حکمتِ عملی ہیں۔"
کم یو جونگ کا یہ بیان جاپان سیلف ڈیفنس فورسز کے امریکہ ساختہ ٹوماہاک کروز میزائل کا پہلا تجربہ کرنے سے چند روز بعد سامنے آیا ہے ۔
واضح رہے کہ جاپانی محارب جنگی جہاز JS Chokai (DDG-176) نے 29 جولائی کو پہلی مرتبہ ایک ٹوماہاک کروز میزائل فائر کیا تھا۔ جاپان اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے لئے امریکی بحریہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور اس تناظر میں حالیہ ٹوماہاک میزائل تجربے کوایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے ۔
کم یو جونگ نے مزید کہا ہے کہ" جاپان جنگی دور کے توسیع پسندانہ خیال کے دوبارہ احیاء کی کوششوں میں ہے۔عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جنگی جرائم کی مرتکب ریاست کے وارثوں کے بے لگام فوجی عزائم کے مقابل اپنے ہوشیار باز درجے میں میں اضافہ کرے۔"
کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق جاپان کی 2022 کی قومی سلامتی حکمتِ عملی نے ملک کو اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنی جنگ مخالف آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے بطور دفاعی اقدام دشمن کے میزائل اڈوں پر حملے کی صلاحیت حاصل کرے۔


















