رومانیہ نے کہا ہے کہ اسپین کے جنگی طیارے نے یوکرین اور مولدووا کی سرحد کے قریب ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔
رومانیہ وزارتِ دفاع نے آج بروز اتوار جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسپین کے ایک جنگی طیارے نے یوکرین اور مولدووا کی سرحد کے قریب رومانیہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرون کو مار گرایا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر، روس۔ یوکرین جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کے اثرات کی زد میں ہونے کی وجہ سے یوکرینی سرحد سے متصل نیٹو ممالک کو درپیش، خطرات کو اجاگر کر دیا ہے ۔
وزارتِ دفاع کے مطابق، مولدووا کی سمت سے داخل ہونے والے ڈرون کو نیٹو مشن پر متعین ایک F-18 جنگی طیارے نے روکا اور گرایا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈرون کا ملبہ گالاتی کے علاقے میں یوکرین کی سرحد کے قریب ایک غیر آباد اور خالی علاقے میں گرا ہے۔
واضح رہے کہ بحیرۂ اسود سے متّصل رومانیہ کا مشرقی ساحلی علاقہ ان علاقوں کے بالکل قریب واقع ہے جو اکثر حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔
حکام کے مطابق، 2023 سے اب تک روس کی جانب سے دریائے دینیوب کے ساتھ واقع اور سرحد کے دوسری جانب موجود یوکرینی بندرگاہوں پر حملوں کے بعد رومانیہ کی سرزمین پر کئی مرتبہ ڈرونوں کے ٹکڑے مل چکے ہیں۔
گزشتہ ماہ رومانیہ نے 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔ یہ ڈرون بخارسٹ سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا تھا۔
نیٹو کے ، پولینڈ اور بالٹک ممالک سمیت، مشرقی حصے کے دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے واقعات کی اطلاع ملی ہے۔
نیٹو نے جمعہ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ اتحاد کے فضائی گشت مشن کے تحت متعین کئے گئے اطالوی جنگی طیاروں نے بھی لٹویا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔

















