ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، تہران میں ایک پریس کانفرنس میں وزارتِ داخلہ کے ترجمان زینی وند نے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کے ثالث، پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران آمد کے بارے میں سوال کا جواب دیا۔
زینی وند نے بتایا کہ پاکستان کا ثالثی کردار اور سفارتی کوششیں 'بڑی کوشش' کے ساتھ جاری ہیں اور کہا: 'مسائل حل کرنے اور اسلام آباد معاہدے کی طرف واپس جانے کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششیں اور ثالثی ابھی بھی جاری ہیں۔'
امریکہ کو اسلام آباد معاہدے کی شقوں کی پابندی کرنی چاہیے
زینی وند نے کہا کہ 'بہت سے ممالک مسئلے کو حل کرنے اور فریقین کو دوبارہ مفاہمت کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں' اور 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان دستخط ہونے والے مگر نافذ نہ کیے جانے والے معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی جانب توجہ دلائی:
'دوسرے فریق کو اپنے دستخط کی ساکھ کا احترام کرتے ہوئے معاہدے کی شقوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ امریکہ کو اسلام آباد معاہدے کی شقوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ یہ معاہدہ ایران کا ایک اعلیٰ سطحی فیصلہ ہے اور قیادت کی جانب سے منظور شدہ ہے۔ ہماری درخواست یہی ہے کہ مخالف فریق اس معاہدے کی طرف واپس آئے۔'
اطلاع دی گئی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کے ثالث، پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی چند روز میں دوبارہ تہران کا دورہ کریں گے۔














