غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل کی بلاک ایڈ سے غزہ میں قحط پر یونیسیف کا سخت انتباہ
"بس بہت ہو چکا، اقوام متحدہ کو ہر قسم کی امداد کو وسیع  پیمانے پر خاندانوں تک پہنچانے کی اجازت دی جانی چاہیے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔"
اسرائیل کی بلاک ایڈ  سے غزہ میں قحط پر یونیسیف کا سخت انتباہ
Over the course of the genocide, Israel has reduced most of the blockaded enclave to ruins, and practically displaced all of its population. / AA

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے محصور غزہ میں  ایک "انسانی ساختہ آفت" قرار  دیے گئے وسیع پیمانے کے    فاقہ کشی بحران پر سخت انتباہ جاری کیا ہے، کیونکہ اسرائیل کی جاری امدادی ناکہ بندی بچوں میں مہلک غذائی قلت کو بڑھا رہی ہے۔

یونیسف نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی محاصرے کے تحت روزمرہ کی زندگی کی ایک تاریک تصویر  کو جگہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ  "فاقہ کشی سے  لوگ مر رہے ہیں۔"

یونیسف نے کہا کہ "بچوں میں مہلک غذائی قلت تباہ کن سطح تک پہنچ رہی ہے،" اور مزید کہا کہ "خوراک خطرناک حد تک کم ہے، اور صاف پانی ہنگامی سطح سے بھی نیچے ہے۔"

اقوام متحدہ کے ادارے نے  مزید کہا، "امداد کو سختی سے محدود کر دیا گیا ہے اور اس تک رسائی خطرناک ہے۔"

صورتحال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے، یونیسف نے کہا: "بس بہت ہو چکا، اقوام متحدہ کو ہر قسم کی امداد کو وسیع  پیمانے پر خاندانوں تک پہنچانے کی اجازت دی جانی چاہیے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔"

"غزہ میں بچوں اور خاندانوں کے لیے بھوک ایک ہولناک حقیقت ہے،" یونیسف نے کہا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امداد کو فوری طور پر اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

نسل کشی کے دوران  فاقہ کشی

یونیسف کی یہ وارننگ اسرائیل کے محصور علاقے پر مسلسل حملوں کے دوران سامنے آئی ہے، جو کہ ختم ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیتے، جبکہ گہری ہوتی ہوئی قحط سالی مزید جانیں لے رہی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ انسانی بحران کی شدت کا عکاس  ہے، کیونکہ مسلسل بمباری اور محرومی نے شہریوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

اسرائیل نے محصور علاقے میں حملوں میں  59,000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق، تقریباً 11,000 فلسطینیوں کے تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد غزہ کے حکام کی رپورٹ سے کہیں زیادہ ہے، اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ تعداد تقریباً 200,000 ہو سکتی ہے۔

اس نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے، اور عملی طور پر اس کی تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔

اس نے انتہائی ضروری انسانی امداد کے داخلے کو بھی روک دیا ہے، اور صرف ایک متنازعہ امریکی حمایت یافتہ امدادی گروپ کو اجازت دی ہے، جسے اقوام متحدہ کے امدادی کام کو نظرانداز کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اسے "موت کا جال" قرار دیا گیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کوانٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کر رہا ہے
اگست دنیا کا گرم ترین مہینہ
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں
فلپائن : فیری میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک اور 80 سے زائد لاپتہ
شام میں دھماکہ،ترکیہ کی تعزیت
انڈونیشیا: صحافیوں کو لے جانے والی کشتی لاپتہ ہو گئی
ملائیشیا میں ہیلی کاپٹر کا حادثہ،5 افراد ہلاک
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا