دنیا
3 منٹ پڑھنے
ویتنام: تو لام کا دورہ چین، تعاون کے معاہدوں پر دستخط
ویتنام کے نئے منتخب صدر نے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو 'سب سے اہم ترجیح' قرار دیا ہے، جبکہ وہ تجارتی وابستگی، علاقائی تناؤ اور عالمی معاشی جھٹکوں سے نمٹ رہے ہیں۔
ویتنام: تو لام کا دورہ چین، تعاون کے معاہدوں پر دستخط
ویتنام کے صدر تو لام 7 اپریل 2026 کو ہنوئی، ویتنام میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حلف اٹھا رہے ہیں۔ / Reuters

صدر تو لام نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کو اپنے طاقتور پڑوسی کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا ہے

عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد تو لام کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے جسے انہوں نے اپنے طاقتور پڑوسی کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ہنوئی انتظامیہ، چین اور امریکہ کے درمیان انتہائی محتاط توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے یہ دورہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا  ہے۔

چین سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات  'گرینڈ عوامی ہال'  میں طے پائی  ۔ ملاقات میں تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات کا ابھی اعلان  نہیں کیا گیا۔

اسٹریٹجک تعلقات اور محتاط توازن

صدر تو لام، بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو بارہا "اسٹریٹجک ترجیح" قرار دے چُکے ہیں اور حالیہ دورے میں انہوں نے رسدی زنجیر، انفراسٹرکچر اور معاشی منصوبہ بندی کے شعبوں میں گہرے تعاون کی اپیل کی ہے۔

روزنامہ 'پیپلز ڈیلی' میں اپنے مقالے اور 'سنگ ہوا 'یونیورسٹی میں خطاب کے دوران انہوں نے  کہا ہے کہ صرف تجارتی حجم  کو ہی نہیں تعاون کے معیار کوبھی  بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

تاہم، یہ قربت ویتنام کی حساس 'توازن پالیسی' کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

واضح رہے کہ  امریکہ ویتنام کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے اور چین اس کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ یہ صورتحال ہنوئی کو دونوں معیشتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے سامنے کافی حد تک کمزور بنا دیتی ہے۔

تجارت میں تیزی اور عدم توازن

چین اور ویتنام کے درمیان معاشی تعلقات پہلے ہی بہت گہرے ہیں۔ گزشتہ سال ویتنام کے لئے چین کی برآمدات میں 22 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ ہنوئی نے تقریباً 200 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں۔ تاہم، ویتنام کو چین کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے قریب  پہنچے ہوئے تجارتی خسارے کا سامنا ہے ۔

بحیرہ جنوبی چین میں باہمی علاقائی دعووں کے باوجود  دونوں فریقین نے، بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولاتی پالیسی کے پیدا کردہ  اثرات کے، تمام  عالمی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے قریبی معاشی تعاون کی راہ تلاش کی ہے۔

جنگ کے اثرات اور سفارت کاری

یہ دورہ ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل ہلچل کے دوران کیا گیا  ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے رسدی مسائل کے شکار چین اور ویتنام دونوں ہی تیل کی ترسیل کے لیے 'آبنائے ہرمز' پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں ۔

صدر تو لام اس ہفتے بیجنگ کا دورہ  کرنے والے،  جنگ کے معاشی اثرات سے متاثرہ اور باہمی ہم آہنگی و استحکام کے خواہش مند، عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں ۔

دریافت کیجیے
27 ممالک بحرانی فنڈز تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں، رپورٹ
پاکستانی وزیر اعظم اسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوطی دلانے کی غرض سے  چین کے دورے پر
روس کے زیر کنٹرول لوہانسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرین کے حملے میں چار افراد ہلاک اور 35 زخمی: روس
ایتھنو اسپورٹس  فیسٹیول استنبول میں شروع ہو گیا
پاکستانی وزیر داخلہ کے امریکہ-ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر تہران میں تازہ مذاکرات
نیٹو کے روٹے کا کہنا ہے کہ اتحاد مضبوط راہ پر ہے، ایک اتحادی پر زیادہ انحصار نہیں کرتا
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ،4 افراد ہلاک
امریکہ  نے تائیوان کے لیے 14 بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت روک دی
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں
پاکستان نے کوششیں تیز کر دیں
ترکیہ: اردوعان۔ادریس ملاقات
امریکی کانگریس میں ایک منٹ کی خاموشی
حزب اللہ کے 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوجی قوتوں پر 24 حملے
مسلّح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے: ترکیہ
امریکہ نے فرانسیسکا البانیس کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا