صدر تو لام نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کو اپنے طاقتور پڑوسی کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا ہے
عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد تو لام کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے جسے انہوں نے اپنے طاقتور پڑوسی کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ہنوئی انتظامیہ، چین اور امریکہ کے درمیان انتہائی محتاط توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے یہ دورہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
چین سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات 'گرینڈ عوامی ہال' میں طے پائی ۔ ملاقات میں تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
اسٹریٹجک تعلقات اور محتاط توازن
صدر تو لام، بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو بارہا "اسٹریٹجک ترجیح" قرار دے چُکے ہیں اور حالیہ دورے میں انہوں نے رسدی زنجیر، انفراسٹرکچر اور معاشی منصوبہ بندی کے شعبوں میں گہرے تعاون کی اپیل کی ہے۔
روزنامہ 'پیپلز ڈیلی' میں اپنے مقالے اور 'سنگ ہوا 'یونیورسٹی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ صرف تجارتی حجم کو ہی نہیں تعاون کے معیار کوبھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
تاہم، یہ قربت ویتنام کی حساس 'توازن پالیسی' کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ ویتنام کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے اور چین اس کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ یہ صورتحال ہنوئی کو دونوں معیشتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے سامنے کافی حد تک کمزور بنا دیتی ہے۔
تجارت میں تیزی اور عدم توازن
چین اور ویتنام کے درمیان معاشی تعلقات پہلے ہی بہت گہرے ہیں۔ گزشتہ سال ویتنام کے لئے چین کی برآمدات میں 22 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ ہنوئی نے تقریباً 200 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں۔ تاہم، ویتنام کو چین کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے قریب پہنچے ہوئے تجارتی خسارے کا سامنا ہے ۔
بحیرہ جنوبی چین میں باہمی علاقائی دعووں کے باوجود دونوں فریقین نے، بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولاتی پالیسی کے پیدا کردہ اثرات کے، تمام عالمی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے قریبی معاشی تعاون کی راہ تلاش کی ہے۔
جنگ کے اثرات اور سفارت کاری
یہ دورہ ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل ہلچل کے دوران کیا گیا ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے رسدی مسائل کے شکار چین اور ویتنام دونوں ہی تیل کی ترسیل کے لیے 'آبنائے ہرمز' پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں ۔
صدر تو لام اس ہفتے بیجنگ کا دورہ کرنے والے، جنگ کے معاشی اثرات سے متاثرہ اور باہمی ہم آہنگی و استحکام کے خواہش مند، عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں ۔










