ترکیہ کی حزب اقتدار ‘جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی’ کی 25 ویں سالگرہ اور بحیثیت علاقائی و عالمی کردار ترکیہ کا عروج۔
آج ہم اس پہلو کا جائزہ لیں گے کہ رجب طیب اردوعان کی قیادت میں یکے بعد دیگرے قائم ہونے والی حکومتوں کی مضبوط اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کوششوں کی بدولت ترکیہ نے عالمی سطح پر کیسے عروج حاصل کیا؟
14 اگست کو حزبِ اقتدار اے کے پارٹی یعنی 'انصاف و ترقی پارٹی' نے اپنی 25ویں سالگرہ منائی۔ اس ربع صدی کو ایک مشکور ترکیہ عالمی نظام میں ملکی عروج کے فیصلہ کن دور کے طور پر یاد کرتا رہے گا۔
اپنے قیام سے کچھ ہی عرصے بعد اقتدار میں آنے والی اس جماعت نے ترکیہ میں داخلی سطح پر بھی اور عالمی نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں کیں۔
ملک کے داخلی معاملات کو مضبوطی سے سنبھالنے کے بعد پارٹی نے اپنی توجہ ایک مضبوط اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی تشکیل دینے اور نافذ کرنے پر مرکوز کی جس کے نتیجے میں ترکیہ کے علاقائی و عالمی کردار میں اضافہ ہوا۔
اے کے پارٹی کی حکومت نے اقتدار کے ابتدائی برسوں میں معیشت کو مضبوط بنانے اور ترکیہ کی بین الاقوامی حیثیت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی۔ اس دوران اس نے یورپی یونین کی رکنیت کے ہدف کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترکیہ نے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے اور وسعت دی اور اپنی علاقائی طاقت بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ، بلقان، افریقہ، کاکیشیا، وسطی ایشیا اور اس سے بھی دُور کے خطوّں تک پھیلی ہوئی کثیرالجہتی خارجہ پالیسی اپنائی۔
پارٹی نے مغرب کے ساتھ ترکیہ کے روایتی تعلقات منقطع کیے بغیر اپنے بین الاقوامی تعلقات کو متنوّع بنانے کی کوشش کی۔
2005 میں یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات کا آغاز ترکیہ کے مغرب کی جانب رجحان کو ظاہر کرتا تھا۔ اسی عرصے میں انقرہ نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے، افریقہ تک رسائی بڑھانے، خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات فروغ دینے اور وسطی ایشیا کے ساتھ ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
اپنے اقتدار کی دوسری دہائی میں اے کے پارٹی کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں عرب بغاوتیں، شام میں افراتفری، مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی، 15 جولائی کی فوجی بغاوت کی کوشش، ترکیہ کی آزادانہ پالیسیوں پر مغربی ممالک کی ناراضگی، روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی اور قطر پر عائد پابندیاں شامل تھیں۔
ترکیہ کا تزویراتی عروج
حکومت نے نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ روس، وسطی ایشیا، خلیج، ایشیا اور افریقہ سمیت دیگر مراکزِ طاقت کے ساتھ لچکدار تعلقات بھی استوار کیے ہیں۔
اس خودمختاری کی بدولت ترکیہ نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا ہے۔
2002 میں دفاعی صنعت میں مقامی پیداوار کا تناسب صرف 2 فیصد تھا جو آج 80 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے اور اب بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی متاثر کن کامیابی ہے۔
ترکیہ کی ڈرون ٹیکنالوجی، جنگی بحری جہاز، بکتر بند گاڑیاں، میزائل نظام اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتیں نہ صرف ترک معیشت میں حصہ ڈال رہی ہیں بلکہ یہ خارجہ پالیسی کے ایسے ذرائع بھی بن گئی ہیں جنہوں نے پاکستان، یوکرین، خلیجی ممالک، افریقہ اور وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔
بائراکتار ڈرون اور پانچویں نسل کا کان جنگی طیارہ دنیا بھر میں نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کامیابیوں کے نتیجے میں ترکیہ کی دفاعی اور فضائی و خلائی صنعت کی برآمدات 2002 میں 248 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 10.05 ارب ڈالر ہو گئی ہیں۔
دفاعی صنعت میں ہونے والی پیش رفت نے ترکیہ کو اپنی فوجی کاروائیاں زیادہ خودمختار انداز میں انجام دینے کے قابل بنایا ہے۔تاہم اپنی کمزوریوں کو دُور کرنے کے لیے ترکیہ تحقیق اور ترقی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
گزشتہ 20 برسوں کے دوران ترکیہ نے صومالیہ، قطر، لیبیا، پاکستان اور آذربائیجان سمیت متعدد ممالک کے ساتھ اپنے فوجی وجود اور تعاون میں اضافہ کیا ہے۔
7 اگست کو ترکیہ نے، مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت یعنی ' پاکستان' اور دنیا کے بڑے ترین تیل کے پیداواری ممالک میں سے ایک یعنی 'سعودی عرب'کے ساتھ ایک سہ فریقی دفاعی اتحاد قائم کیا ہے۔
توقع ہے کہ دیگر عرب ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہوں گے جس سے علاقائی سلامتی کے تعاون اور قیامِ امن میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
ترکیہ نے بلقان اور وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط اقتصادی و سفارتی تعلقات بھی استوار کیے ہیں۔
ترکیہ نے بلقانی ممالک کے ساتھ مل کر 2025 میں بلقان امن پلیٹ فارم میں بھی کردار ادا کیا۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد ماضی کے تنازعات کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنا اور سرحدی سلامتی، توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وسطی ایشیا میں ترکیہ نے 2021 میں ترک کونسل کے اندر سے ترک ریاستوں کی تنظیم'OTS' کے قیام کی قیادت کر کے خطے کے ساتھ اپنے تعلقات کو ادارہ جاتی شکل دی۔
TİKA، یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ، ترکیہ اسکالرشپ، معارف فاؤنڈیشن، AFAD، ترک ہلالِ احمر اور ترک ایئرلائنز جیسے اداروں نے مختلف ذرائع کے ذریعے ملک کے سماجی روابط کو وسعت دی ہے۔
OECD کے اعداد و شمار کے مطابق ترکیہ نے 2024 میں تقریباً 7.3 ارب ڈالر کی مجموعی دوطرفہ ترقیاتی امداد فراہم کی جس میں سے 6.1 ارب ڈالر انسانی امداد پر مشتمل تھی۔
آبنائے ہرمز سے آگے
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عرب ممالک کی براستہ ترکیہ رابطہ قائم کرنے کی ضرورت میں اضافہ کر دیا ہے، جیسا کہ سڑک، ریلوے اور پائپ لائن کے منصوبوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
خلیجی ممالک اور عراق، دونوں براستہ ترکیہ مغرب تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ترکیہ بھی تعاون کے اس نئے رجحان کا خیرمقدم کر رہا ہے۔
ترکیہ کی خارجہ پالیسی حالیہ عرصے میں علاقائی و عالمی ایجنڈوں پر اثرانداز ہونے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے اندر زیادہ فعال ہو گئی ہے۔
جی20، نیٹو، اسلامی تعاون تنظیم، ڈی۔8 اور ترک ریاستوں کی تنظیم جیسے پلیٹ فارموں پر ترکیہ کا فعال کردار، انطالیہ ڈپلومیسی فورم کا ایک بین الاقوامی فورم میں تبدیل ہونا اور اقوام متحدہ اور او ایس سی ای 'OSCE' کے تحت اس کی ثالثانہ کوششیں اسی رجحان کی مثالیں ہیں۔
نتیجتاً، اے کے پارٹی کے گزشتہ 25 سالہ دورِ اقتدار کے دوران ترکیہ کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ کو اس کی اس صلاحیت سے منسوب کیا جا سکتا ہے کہ اس نے مضبوط معیشت، دفاعی صنعت، تجارت، انسانی امداد، توانائی، نقل و حمل اور تزویراتی شراکت داریوں سے تقویت پانے والی فعال سفارت کاری کو دو طرفہ مفاد 'Win-Win' کے نقطۂ نظر کے ساتھ یکجا کیا ہے۔
ترکیہ، بلقان سے افریقہ، بحیرۂ اسود سے وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ تک متعدد خطوں میں ایک ایسا اہم فریق ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
گزشتہ 25 برسوں میں حاصل کیا گیا ادارہ جاتی تجربہ، سفارتی نیٹ ورک اور تکنیکی صلاحیت ترکیہ کو عالمی سطح پر ایک بڑے کردار کے لیے تیار کر چکی ہے۔





















