مقامی میڈیا نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ شدید بارشیں چند روز کے اندر انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں وسیع پیمانے کےسیلاب اور لرزشِ اراضی کے واقعات کا باعث بنیں ، جس سے رہائشی علاقوں اور معروف سیاحتی مقامات میں زندگی متاثر ہوگئی،
ڈینپاسر میں دریاوں میں طغیانی کے بعد اچانک سیلابی بہاؤ نے سڑکوں اور مکانات کو زیر آب کر دیا، جکارتہ گلوب کے مطابق منگل کو بعض علاقوں میں پانی کی سطح ایک میٹر تک پہنچ گئی۔
رہائشیوں نے بتایا کہ وہ گھٹنوں تک پانی میں چلتے ہوئے فرنیچر اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات دے رہے تھے۔
سیلاب نے کوتا، لیگیان اور سانور جیسے تفریحی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں ریسکیو ٹیموں نے ربڑ کی کشتیوں کا استعمال کرتے ہوئے زیرِ آب محلے سے لوگوں کو نکالا، ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ۔
گیانیار ضلع کے حصے اوبد میں شدیدبارشوں سے مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے متعدد عمارتوں اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔
مشرقی کرنگاسیم ضلع میں متعدد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں درختوں کے گرنے اور سڑکوں کو پہنچنے والا نقصان شامل تھا۔
انڈونیشیا کی موسمیات، آب و ہوا اور جیوفزکس ایجنسی نے کئی اضلاع کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی وارننگ جاری کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے کے طور پر شدید بارشیں جمعرات تک جاری رہ سکتی ہیں۔
ایجنسی نے سمندری طوفانی صورتِ حال کا بھی انتباہ دیا ہے، اور جنوبی سمندر میں چار میٹر تک کی لہروں کی توقع ظاہر کی ہے، جو بحری نقل و حمل اور ماہی گیری کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔











