سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکہ-روس مذاکرات جلد ہی ہو سکتے ہیں: کریملن
کریملن نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان مذاکرات یا تو اتوار کو یا اگلے ہفتے کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے،جو واشنگٹن کے کیف کے ساتھ بھی مذاکرات کرنے کی منصوبے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔
00:00
امریکہ-روس مذاکرات جلد ہی ہو سکتے ہیں: کریملن
/ Reuters

کریملن نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان آئندہ مذاکرات اتوار یا اگلے ہفتے کے اوائل میں ہو سکتے ہیں کیونکہ واشنگٹن آنے والے دنوں میں کیف کے ساتھ بھی بات چیت کرے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے گزشتہ روز کہا کہ یہ اگلے ہفتے کا آغاز ہو سکتا ہے۔

ترجمان نے یورپی ممالک پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ امن کی تلاش کے بجائے خود کو "مسلح " بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جب فوجی سربراہان یوکرین کے دفاع پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے برطانیہ میں جمع ہوئے۔

پیسکوف نے کہا کہ زیادہ تر برسلز اور یورپی دارالحکومتوں سے ملنے والے اشارے یورپ کو فوجی اڈہ  بنانے کے منصوبوں سے متعلق ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپ نے خود کو  مسلح شکل دے دی ہے اور کسی حد تک جنگی  جتھہ  بن چکا ہے۔

یورپ یوکرین کے دفاع کی حمایت کرے گا

یورپی یونین کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے راستے میں سبکدوش ہونے والے جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ یورپ کو واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی بھی بات چیت سے قطع نظر یوکرین کی بھرپور حمایت جاری رکھنی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کیف مضبوط پوزیشن میں   آجائے اور جنگ بندی برقرار رہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین اپنی آزادی اور خودمختاری کا دفاع کر سکتا ہے اور یہ کہ وہ اپنا راستہ خود طے کرتا ہے اور اپنے رہنماؤں کا انتخاب کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی اور بنیادی ڈھانچے کے اخراجات میں اضافے کے لئے جرمنی کے ممکنہ مستقبل کے اتحاد کی طرف سے طے شدہ قرض پیکج اس کا ایک اہم حصہ ہے۔

یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالاس نے تجویز دی کہ یوکرین کے لئے حمایت کا مظاہرہ کارروائیوں کے ذریعے کیا جانا چاہئے ، خاص طور پر گولہ بارود کی شکل میں جس کی اس  جنگ زدہ ملک کو ضرورت ہے۔

کالاس نے کہا کہ اگر آپ رہنماؤں کے بیانات سنتے ہیں تو حمایت بہت زیادہ نظر  آتی  ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس عمل میں   گولہ بارود  بھی مد نظر رکھنا چاہئے جس کی یوکرین کو ضرورت ہے، لہذا میں واقعی پرامید ہوں کہ ہم اس عمل کو  آگے بڑھائیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کو لکھے گئے ایک خط کے مطابق، اس سے قبل کالاس نے اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر توپ خانے  سے  20 لاکھ  کے قریب آتشیں  اسلحہ  فراہم کرنے کی سفارش  کریں  گی ۔

 

دریافت کیجیے
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع
ترکیہ کی حوثیوں کی مکہ مکرمہ کے اطراف میں روکے گئے ڈراون حملے کی مذمت
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
ترکیہ اور آذربائیجان علاقے میں 'استحکام کے دو جزائر' کی حیثیت کے مالک ہیں، ترک وزیر خارجہ فیدان
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
ایران: ہم نے جزیرہ قشم  کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرا دیا ہے