دنیا
3 منٹ پڑھنے
آسٹریلیا ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کر لے گا: البانیز
انہوں نے اتوار کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کی ریاست مستقل نہیں ہو جاتی، امن صرف عارضی ہو سکتا ہے، آسٹریلیا فلسطینی عوام کے حق کو تسلیم کرے گا کہ وہ اپنی ریاست  ضرور بنائیں
آسٹریلیا ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کر لے گا: البانیز
/ Reuters Archive
11 اگست 2025

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ ان کا ملک ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔

انہوں نے اتوار کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کی ریاست مستقل نہیں ہو جاتی، امن صرف عارضی ہو سکتا ہے، آسٹریلیا فلسطینی عوام کے حق کو تسلیم کرے گا کہ وہ اپنی ریاست  ضرور بنائیں۔

البانیز نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فلسطینی انتظامیہ  کے عزم پر منحصر ہوگا۔

البانیز نے مزید کہا کہ محصور غزہ کی صورتحال دنیا کے خوف سے بالاتر ہو چکی ہے اور اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔

البانیز دو ریاستی حل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور ان کی مرکزی بائیں بازو کی حکومت اسرائیل اور فلسطین کی اپنی خود مختار  ریاستوں  کے حق کی حمایت کرتی رہی ہے۔

فرانس اور کینیڈا نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل فلسطینی علاقوں میں انسانی بحران کو حل نہیں کرتا اور جنگ بندی تک نہیں پہنچتا وہ اس کی پیروی کرے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جولائی میں کہا تھا کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس کے چند روز بعد بڑے پیمانے پر عوامی دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی کہا تھا کہ برطانیہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تسلیم کرے گا۔

اس کے فورا بعد کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا کہ ان کا ملک فلسطین کو تسلیم کرے گا۔

اسرائیل نے فلسطینی ریاست کی حمایت کرنے والے ممالک کے فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان فیصلوں سے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کو انعام ملے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ زیادہ تر اسرائیلی شہری فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے امن نہیں بلکہ جنگ ہو گی ۔

واضح رہے کہ ہزاروں مظاہرین تل ابیب کی سڑکوں پر جمع ہو گئے اور تقریبا دو سال سے جاری نسل کشی کو تیز کرنے اور غزہ پر قبضہ کرنے کے ان کے منصوبے کی مخالفت کی۔

یاد رہے  کہ نیتن یاہو بارہا کہہ چکے ہیں کہ جب تک وہ وزیر اعظم ہیں فلسطینی ریاست کبھی نہیں ہوگی۔

دریافت کیجیے
ایران: امریکہ کی "بحری قزاقی" کا بھرپور جواب دیا جائے گا
بلغاریہ: 5 سال میں 8 ویں عام انتخابات،رائے دہندگان تذبذب کا شکار
امریکہ-ایران مذکرات اچھی سمت میں ہیں:ٹرمپ
روس:استنبول میں مذکرات کے ممکنہ دوبارہ آغاز کو مثبت دیکھتا ہے
آسڑیلیا اور جاپان کے مابین 7 بلین ڈالر کے جنگی جہازوں کی تیاری کا معاہدہ طے
ایران نے آبنائے ہُرمز کو تمام جہازوں کے لئے کھولنے کا اعلان کر دیا
آرتیمیس دوئم کی ٹیم زمینی ماحول سے ہم آہنگی کے مرحلے میں
آئی ایم ایف: مہنگائی اور سست اقتصادی ترقی یورپ کی منتظر ہے
عرب ممالک کا اسرائیل-لبنان فائر  بندی پر خیر مقدم، اسلحہ کو سرکاری کنٹرول میں لینے پر زور
بوسنیا کے 'قصاب' کو فالج کا دورہ
یوکرین: روسی حملوں میں تین افراد ہلاک
پینٹاگون: کیوبا میں ممکنہ فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی تیز کر دی ہے
فلسطین: اب بیانات کی نہیں عمل کی ضرورت ہے
ایران کے ساتھ جنگ  ختم ہو رہی ہے:ٹرمپ
ویتنام: تو لام کا دورہ چین، تعاون کے معاہدوں پر دستخط
روس: لاوروف، چین کے 2 روزہ دورے پر
اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کر دیا
سعودی عرب: امریکہ ہُرمز سے ناکہ اٹھائے
چین اور ہسپانیہ، منتشر ہوتے عالمی نظام کے مقابل، مضبوط باہمی تعلقات کی تلاش میں
مقبوضہ مغربی کنارے کے عملی "جزوی الحاق" کو روکا جائے: میرز