صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ اسرائیل کی شدید اشتعال انگیزیوں کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام میں امن، سکون و استحکام کا ماحول تقویت پکڑ رہا ہے۔
صدر نے ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی میں آک پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کیا۔
صدر نے کہا کہ ترکیہ نے جب بھی ضرورت پڑی ، ہر مرحلے پر شام کے ساتھ کھڑے رہنے کے عمل کو جاری رکھا ہے اور شامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو قتل کر کے خوشی محسوس کرنے والے قاتل چاہے جہاں بھی چھپ جائیں، ان کے ٹھکانوں کا پتہ لگا کر ایک ایک کر کے انہیں ان کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جا رہا ہے۔ جو لوگ ہتھیار اٹھا کر مختلف جھنڈے لہرا کر ترکیہ کو دھمکی دیتے ہیں؛ بنیاس میں 248 معصوموں اور ریحانلی میں 53 ہمارے شہریوں کے خون بہانے والوں کے لیے؛ شامی بچوں کی نعشوں کے سامنے تصاویر دینے والے منحوس لوگوں کے محاسبے کا وقت آ گیا ہے۔
صدر نے کہا کہ وہ اس شامی خفیہ ادارے کو مبارکباد دیتے ہیں جس نے (گزشتہ ہفتے) بنیاس، ریحانلی اور شام میں ہونے والے قتلِ عام کے ذمہ دار دہشت گرد کی گرفتاری ممکن بنائی، انہوں نے ترکیہ کی قومی خفیہ ادارے کے بہادروں کو بھی مبارکباد پیش کی۔




















