فلسطین نے ، 11 ممالک پر مشتمل BRICS گروپ کے سربراہی اجلاس میں جاری کیے گئے اعلامیے کا خیرمقدم کیا اور گروپ کی طرف سے فلسطینی عوام کے حقوق اور فلسطینی مقصد کی حمایت کو سراہا ہے۔
فلسطین وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں نئی دہلی میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں منظور کیے گئے اعلامیے میں "فلسطینی کاز کے حامی مؤقف اور نکات" کا خیرمقدم کیا ہے۔
وزارت نے خصوصی طور پر اعلامیے میں مقبوضہ مشرقی القدس سمیت فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنے، اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرنے، دو ریاستی حل سے وابستگی اور فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی حمایت کو نمایاں کیا ہے۔
وزارت نے اعلامیے میں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینان (UNRWA)اور اس کے مینڈیٹ کے لیے ظاہر کی گئی حمایت کا بھی خیرمقدم کیا۔
اعلامیے میں مقبوضہ مشرقی القدس کے مقدس مقامات کے تحفظ اور وہاں رسائی کو یقینی بنانے، فلسطینی عوام کے تحفظ اور زیرِ محاصرہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کی اجازت دینے کے مطالبات پر بھی توجہ دلائی گئی ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ یہ مؤقف بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ قراردادوں سے ہم آہنگ ہیں تاہم انہیں ٹھوس اور عملی اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ برکس:"اعلامیے میں شامل مؤقف اور نکات پر عمل درآمد کے لیے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کو اپنے ناقابلِ تنسیخ حقوق استعمال کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔"
ان حقوق میں فلسطینی عوام کا اپنی سرزمین پر مقبوضہ مشرقی القدس کے دارالحکومت والی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہے ۔
غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل
اس سے قبل ہفتے کے روز BRICS سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کی گئی تھی۔
اعلامیے میں غزہ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیاتھا کہ "ہم فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی مکمل اور بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔"
اعلامیے میں گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے خطے میں تشدد جاری رکھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ "ہم ان تمام پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے جبری طور پر بے دخل کرنا ہے اور ہمیں ایسے انتظامات پر تشویش ہے جو فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا قبضے کو جائز قرار دینے یا اسے طول دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔"
اعلامیے میں فلسطین کے مسئلے کا فوری اور مستقل حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا گیااور فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ برکس گروپ میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
2024 سے 11 ارکان تک توسیع پانے والا برکس اب ایسا اتحاد بن چکا ہے جو دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور عالمی اقتصادی پیداوار کے تقریباً 40 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔





















