مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
ایران: ہم نے امریکی جہاز کو نشانہ بنایا ہے
ایران کا دعوی: ہم نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے  ایک جہاز کو نشانہ بنایا ہے
ایران: ہم نے امریکی جہاز کو نشانہ بنایا ہے
[فائل فوٹو] ایران کا کہنا ہے کہ رکنے کے 'انتباہ کو نظر انداز کرنے' کے بعد جزیرہ جاسک کے قریب 2 میزائلوں نے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ / Reuters

ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے  ایک جہاز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

واشنگٹن نے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کر دی ہے لیکن تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ میں کلیدی بحری علاقوں پر اپنے وسیع کنٹرول کا اعلان کیا اور  ایک نیا نقشہ بھی جاری کر دیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی 'فارس نیوز' نے پیر کے روز مقامی ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے  کہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع جاسک لینڈ کے قریب گشت کرتے ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو رُکنے کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق جہاز نے ٹریفک اور جہازرانی کی سلامتی کی خلاف ورزی کی اور حملے کے بعد اپنا سفرجاری نہیں رکھ سکا اور علاقے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ تاہم کسی مالی  یا جانی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ تہران کی جانب سے جاری کردہ رُوٹ  پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو  روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔"

امریکہ کی تردید

ایکسیئس کے رپورٹر باراک راویڈکے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نےایران کے امریکی بحریہ کے جہاز کو نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ امریکہ 13 اپریل سے اس اہم آبی راستے میں ایرانی بحری سرگرمیوں کے خلاف ایک بحری ناکہ بندی لگائے ہوئے ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی اور اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کسی مستقل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا تھا۔

آبنائے ہرمز کے لیے ایران کا نیا نقشہ

ان پیش رفتوں کے ساتھ ہی، ایران کے پاسداران انقلاب دستوں  نے ایک نیا نقشہ جاری کیا جس میں ان علاقوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں وہ آبنائے ہرمز میں اپنے زیرِ  کنٹرول  قرار دیتا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ علاقہ ایران کے جزیرہ قشم سے لے کر متحدہ عرب امارات کی امارت تک، اور ایران کے کوہِ مبارک سے متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کے جنوب تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم اس نئے اعلان کردہ زیرِ  کنٹرول  علاقے کے پہلے کے زیرِ کنٹرول علاقے کے مقابلے میں کتنا وسیع ہونے سے متعلق تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔

دریافت کیجیے
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے