سیاست
2 منٹ پڑھنے
جاپانی وزیر اعظم تاکائچی نے فروری میں انتخابات کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا
جاپان کی دو ایوانی پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے کسی جماعت یا اتحاد کو زیریں ایوان میں کم از کم 233 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
جاپانی وزیر اعظم تاکائچی نے فروری میں انتخابات کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا
جاپانی وزیر اعظم ثنائے تاکایچی 23 جنوری 2026 کو ٹوکیو، جاپان میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کی تحلیل کے بعد اپنی پارٹی کے اراکین کے ساتھ اپنی مٹھی اٹھاتی ہیں۔ / Reuters
23 جنوری 2026

کیودو خبر رساں ایجنسی  کے مطابق،  جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی نے زیریں ایوان کو تحلیل کر دیا ہے، جس سے 8 فروری کو ایک ہنگامی عام انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہموار ہو گیا ہے ۔

تاکائچی کی کابینہ نے جمعہ کو 465 نشستوں پر مبنی  ایوانِ نمائندگان کی تحلیل کی منظوری دے دی۔

جاپان کی دو ایوانی پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے کسی جماعت یا اتحاد کو زیریں ایوان میں کم از کم 233 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

اگرچہ وزرائے اعظم کو زیریں ایوان تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم  باقاعدہ اجلاس کے آغاز پر 60 سال میں پہلی بار ایسا ہوا ہے۔

تحلیل کے ساتھ ہی انتخابات کے لیے مختصر انتخابی مہم کا دورانیہ عملاً شروع ہو گیا ہے۔

تاکائچی  کا کہنا ہے کہ  انہیں اپنے  عہدہ وزارت ِ عظمی  اور اسی ماہ  قائم ہونے والے حکومتی اتحاد کے لیے براہِ راست عوامی منظوری حاصل کرنا مقصود ہے۔

یہ اتحاد، جسے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور جاپان انوویشن پارٹی نے قائم کیا، زیریں ایوان میں معمولی اکثریت رکھتا ہے اور ہاؤس آف کاؤنسِلرز میں اقلیت میں ہے۔

تاہم،  وزیر اعظم کے زیریں ایوان کے تحلیل ہونے کے محض 16 دن بعد  انتخابات  کرانے  کے فیصلے پر تنقید کی گئی ہے کہ اس سے  رائے دہندگان  کو مقابلہ جاتی پالیسی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے بہت کم وقت ملے گا۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی مالی سال 2026 کے ابتدائی بجٹ  کی پارلیمانی منظوری سے قبل  الیکشن کرانے پر تنقید کی اور ان پر سیاست کو مقدم رکھنے کا الزام لگایا۔

اس سے قبل  زیریں ایوان کے انتخابات  اکتوبر 2024 میں  کرائے گئے تھے۔