چین:عالمی تعاون تنظیم برائے مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان
چار روزہ  اجلاس  نے 1,000 سے زائد چینی ٹیک کمپنیوں اور لگ بھگ 3,000 مصنوعات کو اکٹھا کیا ہے جو اے آئی چپس سے لے کر ایپلی کیشنز چلانے والے اسمارٹ فونز تک وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی تیار کرتی ہیں
چین:عالمی تعاون تنظیم برائے مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان
چین۔ / Reuters

شنگھائی میں عالمی تعاون تنظیم برائے مصنوعی ذہانت  کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو اکیلے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ترقی کو کنٹرول نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کے بجائے انہوں نے عالمی تعاون کی اپیل کی اور ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اے آئی کی دوڑ میں اپنے سیکیورٹی مفادات کو دوسروں کے مفادات پر ترجیح نہ دیں۔

جبکہ واشنگٹن اور برسلز سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے چین سے ٹیکنالوجی کی درآمدات کو محدود کر رہے ہیں اور امریکی لیبارٹریز کو ٹیکنالوجی تک رسائی کے حوالے سے تنازعات کا سامنا ہے، چین کے تیار کردہ ماڈلز بہترین امریکی سسٹمز کے ساتھ فرق کو ختم کر رہے ہیں اور قیمت کے معاملے میں بھی انہیں پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بھی چپس اور ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ میں لیڈر ہے، لیکن وہ چین کو اپنا قریب ترین حریف سمجھتے ہیں۔

چار روزہ  اجلاس  نے 1,000 سے زائد چینی ٹیک کمپنیوں اور لگ بھگ 3,000 مصنوعات کو اکٹھا کیا ہے جو اے آئی چپس سے لے کر ایپلی کیشنز چلانے والے اسمارٹ فونز تک وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی تیار کرتی ہیں۔

شی نے اے آئی کو "انسانی کنٹرول میں" رکھنے کے لیے ریگولیٹری اور مانیٹرنگ سسٹمز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کو انسان دوست قرار دیا۔

چین کے وزیر خارجہ نے ایک دن پہلے، روس، پاکستان اور انڈونیشیا سمیت 29 ممالک کے نمائندوں کے ساتھ مل کر، اے آئی کی منظم ترقی کو مربوط کرنے کے مقصد سے شنگھائی میں قائم ایک بین الحکومتی اے آئی تعاون تنظیم، ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن قائم کی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور کمبوڈیا و تھائی لینڈ کے رہنماؤں نے بھی اس سیشن میں شرکت کی۔

ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس میں متعارف کروائی گئی اہم پروڈکٹس میں Moonshot AI کا Kimi K3 ماڈل، MiniMax کا M3 فون اور Huawei کا Atlas 950 کمپیوٹنگ سسٹم بھی شامل ہیں۔ یہ مصنوعات مختلف پیمانے پر استعمال کیے جانے والے اے آئی سسٹمز کی طرف ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔

چین کا روزانہ کا اے آئی ٹوکن استعمال دو سالوں میں ایک ہزار گنا بڑھ گیا ہے۔ ملک میں اے آئی مارکیٹ کی مالیت پہلے ہی 177 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اور یہ سالانہ 30% سے زیادہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ملک جنریٹو اے آئی میں عالمی پیٹنٹ کی درخواستوں میں بھی سرفہرست ہے، اور سیمنز (Siemens) سمیت بیرونِ ملک کی کمپنیاں امریکی کمپنیوں کے کلوزڈ متبادلات کے مقابلے میں چین کے سستے، حسبِ ضرورت اوپن سورس ماڈلز کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔

 

 

دریافت کیجیے
ایران کی معاشی مشکلات میں اضافہ، اسرائیل-امریکہ کی جنگ نے کارخانوں کو نقصان پہنچایا
جنرل برہان: سوڈان کی فوج 'حقیقی امن' کے لیے تیار ہے، آرایس ایف ہر گز اقتدار پر نہیں آ سکتی
جنوبی ہسپانیہ زلزلے سے لرز اٹھا، عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
ہرمز کو کسی ٹویٹ، طیارے کیریئر یا انتخابی تقریر سے قبضے میں نہیں لیا جا سکتا' — ایران
انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا خطرناک زلزلہ، امدادی کارروائیاں جاری
ترکیہ نے یومِ آزادی کے موقع پر 'دوست اور برادر ملک' پاکستان کو مبارکباد دی
نیپال،شدید بارشوں کی تباہی ،5 افراد ہلاک 8 لا پتہ
روس اور یوکرین کے درمیان فوجی نعشوں کا تبادلہ
مشرقی جاپان میں شدید بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک
"جشنِ آزادی پاکستان" اسلام آباد میں آتشبازی کا شاندار مظاہرہ
امن کی تلاش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:شہباز شریف
مصر میں ایک شاپنگ مال میں دھماکے میں 3 افراد ہلاک، 17 زخمی
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
پولینڈ: 19 ملین افراد کی طبّی معلومات چوری ہو گئیں
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز