دنیا
3 منٹ پڑھنے
اگر حملہ ہوا تو علاقے کے امریکی اثاثے ہمارا جائز ہدف بن جائیں گے: ایران
اگر ہمیں فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو ہم، علاقے میں 'دشمن قوت' کے اڈوں، تنصیبات اور اثاثوں کو جائز ہدف سمجھیں گے: ایران
اگر حملہ ہوا تو علاقے کے امریکی اثاثے ہمارا جائز ہدف بن جائیں گے: ایران
امریکہ ایران کے قریب اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر رہا ہے، بشمول جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور ایندھن بھرنے والے طیارے۔ / TRT World
10 گھنٹے قبل

ایران نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو مطلع کیا  ہے کہ اگر ہمیں فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو ہم، علاقے میں 'دشمن قوت' کے اڈوں، تنصیبات اور اثاثوں کو جائز ہدف سمجھیں گے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے جمعرات کو ارسال کردہ ایک خط میں کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا  لیکن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے بارے میں تقریریں 'فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے' کا اشارہ دے رہی  ہیں ۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران پر فوجی حملہ کیا گیا تو وہ 'مصّمم' انداز میں اس کا جواب دے گا۔

ایران کا یہ ردِعمل صدر ٹرمپ کی وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے۔  ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر آئندہ 10 دنوں میں  ایران، واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں کسی  'معنی خیز معاہدے' تک نہ پہنچا  تو اس کےنتائج بُرے ہوں گے۔  اسی دوران انہوں نے جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی سازو سامان بھی خطے میں بھیج دیا ہے۔

ٹرمپ نے امن بورڈ کی افتتاحی نشست میں کہا ہے کہ "وقت کے ساتھ یہ ثابت ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک پُر معنی معاہدہ کرنا آسان نہیں ہے۔ ہمیں پُر معنی معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ بُرے نتائج نکلیں گے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو شاید واشنگٹن ایک قدم آگے بڑھنے پر مجبور ہو جائے گا۔  ہو سکتا ہے کہ آئندہ 10 دنوں میں  آپ بھی جان جائیں"۔

ٹرمپ نے یہ  بیانات، اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے ایران کو تنبیہات دینے کے بعد جاری کئے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ "اگر آیات اللہ نے کوئی غلطی کی اور ہم پر حملہ کیا تو انہیں ایسا ردعمل ملے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے"۔

ایران پر حملے کے لیے فوجی تیاری

یہ تنبیہات ، عمان کےزیرِ  ثالثی  منعقدہ دوسرے امریکہ۔ایران  مذاکرات کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ مذاکرات میں امریکہ  کا مقصد ایران کو جوہری اسلحے کے حصول سے روکنا  ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہے ۔ ایران  امریکی پابندیوں میں نرمی  کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

امریکہ نے ایران کے نزدیک، جنگی بحری جہازوں، لڑاکا طیاروں اور ایندھن ٹینکر طیاروں پر مشتمل، فوجی طاقت میں اضافہ کر کے، ٹرمپ کے حکم کی منتظر، عملی جنگ کے لئے  زمین تیار کر دی ہے۔

واشنگٹن نے خطے میں دوسرا ایئر کرافٹ کیریئر بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق  پہلا کیریئر 'یو ایس ایس ابراہم لنکن'  اور اس کے تقریباً 80 طیارے اتوار تک ایرانی ساحل سے تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔

ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے بھی اس ہفتے آبنائے ہرمز میں جنگی مشقیں کر کے  اپنی فوجی طاقت کی نمائش کی ہے۔

ایرانی سیاسی رہنماؤں نے بارہا آبنائے  ہرمز کو بندکرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ بحری گزرگاہ  تیل اور گیس کی باربرداری  و منتقلی کے  لیےعالمی سطح پر   ایک اہم راستہ ہے۔ امریکہ۔ایران تصادم کے خدشات نے اس ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق سمندری راستے سے منتقل ہونے والےعالمی  تیل کا ایک چوتھائی حصّے اور عالمی  مائع قدرتی گیس کےپانچویں حصے کی  نقل و حمل آبنائے ہرمز سے کی جاتی ہے۔