دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ: عمان سُدھر جائے ورنہ ہمیں سُدھارنا پڑے گا
باقی سب کی طرح عمان بھی سیدھا ہو جائے ورنہ ہم انہیں تباہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ: عمان سُدھر جائے ورنہ ہمیں سُدھارنا پڑے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس میں شریک ہیں۔ / رائٹرز

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ملک ‘عمان’ کو سخت دھمکی دی اور کہا ہے کہ عمان "سدھر جائے" ورنہ اسے امریکی حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران کہا ہے کہ "باقی سب کی طرح عمان بھی سیدھا ہو جائے ورنہ ہم انہیں تباہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ وہ یہ بات سمجھتے ہیں لہٰذا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا"۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ نے عمان پر یہ الزام کیوں عائد کیا اور وائٹ ہاؤس نے بھی اس بارے میں تبصرے کی درخواست کا کوئی  جواب نہیں دیا۔

عمان اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر چکا ہے۔ حالیہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ عمان، جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایران کے ایک بنیادی مطالبے یعنی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس نظام قائم کرنے کے معاملے میں  تہران کے ساتھ تعاون کر رہا تھا۔

عمان کا ایک علاقہ آبنائے ہرمز کے جنوبی سرے پر ایران کے بالکل سامنے واقع ہے ۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز "بین الاقوامی پانی" ہے اور "کوئی بھی اسے کنٹرول نہیں کرے گا"، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس کی "نگرانی" کرے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ "یہ ہمارے جاری مذاکرات کا حصہ ہے۔ وہ اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، لیکن کوئی بھی اسے کنٹرول نہیں کرے گا"۔

اس سے قبل جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ "میں اس سے خوش نہیں ہوں، لیکن ہم خوش ہو جائیں گے۔ یا تو ہماری مرضی کے مطابق  ہوگا یا ہمیں کام مکمل کرنا پڑے گا ایران  نے ہمیں وہ چیزیں دینا شروع کر دی ہیں  جو اسے دینا چاہییں"۔

ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ "ایران سنجیدگی سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک وہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکے۔وہ اپنی آخری طاقت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ شاید ہمیں واپس جا کر کام مکمل کرنا پڑے اور  شاید اس کی ضرورت نہ پڑے"۔

اگرچہ امریکہ اور دیگر ممالک کے حکام کسی معاہدے کے امکانات کے بارے میں محتاط امید ظاہر کر رہے ہیں لیکن اس بات پر سوالات بڑھ گئے ہیں کہ آیا معاہدے میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر شامل ہوں گے یا نہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ"  کیا وہ اس امکان سے مطمئن ہوں گے کہ چین یا روس اس جوہری مواد کو اپنے پاس لے جائیں" ٹرمپ نے کہا ہے کہ "نہیں، اس سے مجھے اطمینان نہیں ہوگا"۔

علاقائی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملے کئے۔ اس کے جواب میں تہران نے خطے میں اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کئے اور آبنائے ہرمز بند کر دی تھی۔

پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات مستقل معاہدہ کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

بعد ازاں ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا لیکن اس کے باوجود اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے یا وہاں سے آنے والے جہازوں پر پابندی برقرار رکھی، جبکہ وقتاً فوقتاً یہ بھی کہتے رہے کہ امن معاہدہ قریب ہے۔

دریافت کیجیے
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
پاکستان: 6 سے زیادہ ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا