دنیا
2 منٹ پڑھنے
ایران: مارکو روبیو حقائق کو مسخ کر رہے ہیں
ہم مارکو روبیو کے، توانائی کی عالمی منڈیوں اور تہران کے جوہری پروگرام سے متعلقہ، بیانات کو مسترد کرتےہیں: ایران
ایران: مارکو روبیو حقائق کو مسخ کر رہے ہیں
تہران، ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی ایرواسپیس فورس کے میوزیم میں ایرانی میزائل نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، 12 نومبر (فائل)۔ / Reuters

ایران نے اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو حقائق مسخ کرنے کا قصوروار ٹھہرایا اور  کہا ہے کہ "ہم مارکو روبیو کے، دورہ بھارت کے دوران توانائی کی عالمی منڈیوں اور تہران کے جوہری پروگرام سے متعلقہ، بیانات کو مسترد کرتےہیں"۔

بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے جاری کردہ   بیان میں کہا ہے کہ "ایسے الزامات خطے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور امریکہ اور صہیونی حکومت کی عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں"۔

روبیو نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکہ، ایران کو توانائی کی عالمی منڈی کو 'یرغمال' بنانے کی اجازت نہیں دے گا اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

ایرانی سفارت خانے نےکہا ہے کہ "گزشتہ برسوں میں توانائی کی عالمی منڈی کو یرغمال بنانے والی چیز دراصل امریکہ کی جانب سے ایران کی تیل برآمدات پر عائد غیر قانونی اور غیر منصفانہ پابندیاں ہیں۔ یہ پابندیاں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کے خلاف ڈیزائن اور نافذ کی گئی ہیں اور ان کا مقصد ایرانی عوام پر اقتصادی دباؤ ڈالنا ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "یہ دونوں حکومتیں (امریکہ اور اسرائیل) عالمی سلامتی اور توانائی کے بحرانوں میں اضافے کی بنیادی محرک ہیں، اور سیاسی و عسکری مقاصد کے حصول کی خاطر عدم استحکام اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں"۔

ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق روبیو کے بیانات کے جواب میں  کہا ہے کہ "جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے ایک وفادار رکن کے طور پر ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "اسلامی جمہوریہ ایران جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کو اپنے عوام کا جائز اور ناقابلِ تنسیخ حق سمجھتا ہے، اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ اس قانونی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا"۔

علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا  کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ متوقع معاہدہ 'زیادہ تر طے پا چکا ہے' اور توقع ہے کہ جلد حتمی شکل اختیار کر لے گا۔