ترک صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کی فتح کی 573ویں سالگرہ منائی اور اس واقعے کو نہ صرف ایک تاریخی فوجی فتح بلکہ شہر کے لیے امن، سلامتی اور تجدید لانے والا سنگِ میل قرار دیا۔
جمعہ کو حکمران جماعت (اے کے) کی استنبول صوبائی شاخ کی جانب سے خالیچ کانگرس سنٹر میں منعقدہ “استنبول کی فتح سے دلوں کی فتح تک” پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے، ایردوان نے 1453 کی اس فتح میں جہدوجہدکرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن کی قیادت سُلطان محمد دوئم نے کی، جنہیں فاتح سلطان محمد کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ایردوان نے کہا کہ" میں اس بامعنی دن پر، میں 573 سال پہلے استنبول کی فتح میں حصہ لینے والے اپنے تمام بزرگوں کو رحم و مغفرت کے ساتھ یاد کرتا ہوں جو شہر کو فتح کرتے وقت شہید ہوئے یا غازی بنے۔"
“میں اس شاندار کمانڈر کو بھی احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں جس نے 21 سال کی عمر میں استنبول فتح کیا۔ فتح کی 573ویں سالگرہ مبارک اور بابرکت ہو۔”
ایردوان نے کہا کہ یہ فتح “محض ایک عظیم فتح” یا ایک ایسا واقعہ نہیں تھی جو “ایک دور کا آغاز یا خاتمہ” کرتی ہو، بلکہ “دنیا کے سب سے قابلِ قدر شہروں میں سے ایک میں اندھیروں کو روشنی میں بدل دینا” تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نے دیرپا امن و امان قائم کیا، مختلف پس منظر اور عقائد کے لوگوں کے لیے رواداری کو فروغ دیا، اور ایک ایسے شہر کو دوبارہ زندگی بخشی جو زوال کا شکار تھا۔
استنبول: ترکیہ کا 'چشم و چراغ"
مرحوم مورخ خلیل انالجک کا حوالہ دیتے ہوئے، ایردوان نے کہا کہ سُلطان محمد دوئم نے فتح حاصل کرنے کے لیے انتھک محنت کی اور بعد ازاں قسطنطنیہ کو بنیادوں اور عوامی اداروں کے ذریعے ایک عظیم ترکیہ-اسلامی شہر کے طور پر دوبارہ تعمیر کیا۔
ایردوان نے قسطنطنیہ کی فتح کے ساتھ اکثر منسوب ایک نبوتی روایت کا بھی حوالہ دیا: "قسطنطنیہ یقیناً فتح ہو گا۔ وہ کتنا شاندار کمانڈر ہو گا جو اسے فتح کرے گا، اور وہ کتنا شاندار لشکر ہو گا۔"
انہوں نے فتح کو 1071 میں منصِکِرٹ (منزیکرٹ) کی جنگ سے شروع ہونے والی فتوحات کی زنجیر کا سب سے روشن حلقہ قرار دیا اور کہا کہ یہ دکھاتا ہے کہ ترک قوم اپنے نظریات کے تعاقب میں کیا کچھ حاصل کر سکتی ہے۔
اُس مشہور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں عثمانی بحری جہازوں کو خشکی کے راستے گولڈن ہارن تک پہنچایا گیا، ایردوان نے کہا کہ یہ کارنامہ سُلطان محمد کے عزم اور فتح پر ایمان کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ استنبول 1453 سے قوم کا 'آنکھ کا تارا' رہا ہے اور اُن لوگوں کی تنقید کی جن کے خیال میں وہ اب بھی فتح کی میراث کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ استنبول کی حیثیت بدلنے کے مطالبات یا شہر کی تاریخی شناخت پر تنقید فتح اور اس کی میراث کے ساتھ ایک حل طلب تنازعے کی عکاسی کرتی ہے۔
صدر نے کہا کہ ترکیہ فاتح سلطان محمد کی وراثت کے طور پر استنبول کا تحفظ جاری رکھے گا اور آئندہ کامیابیوں کے لیے فتح سے الہام لے گا۔
انہوں نے سُلطان محمد کے شہر پر قبضے کے مشہور عزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ"اگر ہمارا ایمان پختہ ہو، محنت کریں اور مشکلات کے سامنے ثابت قدم رہیں تو کوئی ایسا کام نہیں جسے ہم انجام نہ دے سکیں اور کوئی ایسا مقصد نہیں جسے ہم حاصل نہ کر سکیں۔"

















