سیاست
3 منٹ پڑھنے
قطر: اگر جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات بند ہو سکتی ہے
قطری وزیر توانائی الکعبی: توانائی کی قیمتیں سب کے لیے بڑھ جائیں گی، مصنوعات کی قلت ہو گی، اور ایک منفی ردِعمل کا سلسلہ شروع ہو گا جس کے نتیجے میں فیکٹریاں ضر کہ طویل مدت کی خلل آمیز حالات "دنیا کی معیشتوں کے تباہی" کا سبب بن سکتی ہیں۔
قطر: اگر جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات بند ہو سکتی ہے
مثال میں تھری ڈی پرنٹڈ تیل کے پمپ جیکس اور قطر کا جھنڈا دکھایا گیا ہے۔ / Reuters

قطری وزیرِ توانائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں جاری جنگ ہفتوں تک جاری رہی تو خلیجی توانائی برآمدات رک سکتی ہیں، اور طویل حملوں سے عالمی منڈیوں میں شدید خلل پڑ سکتا ہے۔

قطر نیوز ایجنسی کے حوالہ سے فنانشنل ٹائمز کے ایک انٹرویو میں سعد الکعبی نے کہا کہ جنگ جاری رہنے سے تیل کی قیمت فی بیرل 150 ڈالر اور گیس کی قیمت 40 ڈالر تک جا سکتی ہے۔

وزیر نے کہا" ہم نے تاحال ہنگامی حالات کا اعلان نہیں کیا، توقع ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو اگلے چند دنوں میں اس کا اعلان کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ “خلیج کے تمام برآمد کنندگان کو فورس ماجور کو فعال کرنا ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہی تو عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

الکعبی نے کہا "توانائی کی قیمتیں سب کے لیے بڑھ جائیں گی، مصنوعات کی قلت ہو گی، اور ایک منفی ردِعمل کا سلسلہ شروع ہو گا جس کے نتیجے میں فیکٹریاں ضروری سامان مہیا نہیں کر پائیں گی۔"

انہوں نے کہا کہ حتیٰ کہ اگر جنگ فوراً ختم بھی ہو جائے، تو قطر کے لیے معمول کے توانائی سپلائی کے سلسلے بحال ہونے میں “ہفتوں سے مہینوں” تک کا وقت لگے گا۔

الکعبی نے یہ بھی خبردار کیا کہ طویل خلل عالمی توانائی منڈیوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ “عالمی معیشتوں کے انہدام” کا باعث بنے۔

بدھ کے روز، ریاستی توانائی کمپنی قطر انرجی نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے صارفین کو جنگ کے دوران پیداوار معطل ہونے کے بعد “فورس ماجور” کے اعلان سے آگاہ کر دیا ہے، جس میں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران شامل ہیں۔

فورس ماجور ایک قانونی شق ہے جو معاہدات میں فراہم کنندگان کو استثنائی حالات میں معاہدہ جاتی ذمہ داریوں—جیسے کہ ترسیل بند کرنا—معمولی جرمانوں کے بغیر معطل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

جنگ نے پہلے ہی توانائی کی فراہمی میں خلل ڈالا ہے، اورآبنائے ہرمز کی بندش سے سمندری آمد و رفت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ عمومی طور پر یومیہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اس تنگ آبنا سے گزرتا ہے، مگر رپورٹس کے مطابق سیکورٹی خطرات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے اس وقت سینکڑوں جہاز دونوں جانب انتظار کر رہے ہیں۔

28 فروری سے اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی حملے کیے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں ایرانی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں اعلیٰ سکیورٹی حکام اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ اٰی بھی شامل ہیں۔

ایران نے جوابی اقدام میں اسرائیل اور خلیجی ریاستوں، عراق اور اردن میں اپنے بیان کردہ “امریکی مفادات” کی طرف میزائل اور ڈرون داغے، جن میں سے بعض جانی نقصان کا موجب بنے اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچایا، جس پر متاثرہ عرب ممالک نے مذمت کی۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ۔جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقوں کا حجم کم کیا جائے: ٹرمپ
پوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
کُشنر مصر کے بعد اسرائیل روانہ، نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے
مصر بھی 'مکہ معاہدے' میں شامل ہو سکتا ہے: اردوعان
ترکیہ کا "دہشت گردی سے پاک ترکیہ" اقدام مزید مضبوط اتحاد کی راہ ہموار کرے گا: قورطلمش
رومانیہ: ہسپانوی نیٹو جنگی طیارے نے ڈرون کو گرا دیا
ایران: آبنائے ہُرمز ایران کی تھی، ہے اور رہے گی
ایران کی معاشی مشکلات میں اضافہ، اسرائیل-امریکہ کی جنگ نے کارخانوں کو نقصان پہنچایا
جنرل برہان: سوڈان کی فوج 'حقیقی امن' کے لیے تیار ہے، آرایس ایف ہر گز اقتدار پر نہیں آ سکتی
جنوبی ہسپانیہ زلزلے سے لرز اٹھا، عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
ہرمز کو کسی ٹویٹ، طیارے کیریئر یا انتخابی تقریر سے قبضے میں نہیں لیا جا سکتا' — ایران
انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا خطرناک زلزلہ، امدادی کارروائیاں جاری
ترکیہ نے یومِ آزادی کے موقع پر 'دوست اور برادر ملک' پاکستان کو مبارکباد دی
نیپال،شدید بارشوں کی تباہی ،5 افراد ہلاک 8 لا پتہ
روس اور یوکرین کے درمیان فوجی نعشوں کا تبادلہ