ثقافت
3 منٹ پڑھنے
میڈونا: پاپ غزہ کا دورہ کر کے 'بھوکے بچوں کے لیے امید کی کرن بنیں'
پوپ لیو چہار دہم ہی وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں غزہ میں داخل ہونے سے اروکا نہیں جا سکتا، اس معاملے میں مزید وقت کا ضیاع نہیں کیا جا سکتا۔
میڈونا: پاپ غزہ کا دورہ کر کے 'بھوکے بچوں کے لیے امید کی کرن بنیں'
مدونا نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں اور نہ ہی کسی پر الزام لگا رہی ہیں۔ / AP

پاپ موسیقی کی ملکہ  میڈونا نے پوپ لیو سے براہ راست اپیل کی ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے وہ محصور غزہ کا سفر کریں اور بچوں کے لیے روشنی لے کر آئیں،، کیونکہ اسرائیل اپنی نسل کشی کی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا: "مقدس پاپ ، براہ کرم غزہ جائیں اور بچوں کے لیے  روشنی کی کرن بنیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ ایک ماں کے طور پر، میں ان کا دکھ دیکھنے کی تاب نہیں رکھ سکتی۔  یہ بچے ہم سب کے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا: "آپ واحد شخصیت ہیں جنہیں داخلے سے روکا نہیں جا سکتا۔ ہمیں انسانی ہمدردی کے دروازے مکمل طور پر کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ ان معصوم بچوں کو بچایا جا سکے۔ وقت ختم ہو رہا ہے۔ براہ  کرم آپ وہاں جائیں ۔ احترام و محبت کے ساتھ، میڈونا۔"

انہوں نے کہا: "سیاست تبدیلی نہیں لا سکتی۔ صرف شعور لا سکتا ہے۔ اسی لیے میں ایک خدا کے بندے سے رجوع کر رہی ہوں۔"

اپنے بیٹے روکو کی سالگرہ کے موقع پر، میڈونا نے کہا: "ایک ماں کے طور پر، میں سمجھتی ہوں کہ میرے بیٹے کو بہترین تحفہ یہ ہو سکتا ہے کہ میں سب سے درخواست کروں کہ وہ غزہ میں جنگ کے درمیان پھنسے ہوئے ان معصوم بچوں کو بچانے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں کریں ۔ میں کسی پر الزام نہیں لگا رہی، نہ ہی کسی طرفداری کر رہی ہوں۔ سبھی تکلیف میں ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا: "میں صرف یہ کوشش کر رہی ہوں کہ ان بچوں کو بھوک سے مرنے سے بچایا جا سکے۔" انہوں نے اپنے پیروکاروں سے اپیل کی کہ وہ World Central Kitchen جیسے انسانی ہمدردی کے اداروں کو عطیات دیں۔

اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی

اسرائیل نے محصور غزہ میں اپنی بربریت کے دوران 61,500 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی WAFA کے مطابق، تقریباً 11,000 فلسطینیوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جو تباہ شدہ گھروں کے نیچے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد غزہ کے حکام کی رپورٹ کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے، اور یہ تقریباً 200,000 تک ہو سکتی ہے۔

اس نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کو تقریباً مکمل طور پر کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی پوری آبادی کو عملاً بے گھر کر دیا ہے۔

گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اسرائیل کو محصور علاقے میں فلسطینیوں کے خلاف جنگ کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

 

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں