ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے الزام لگایا کہ امریکہ نے سری لنکا کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز کو ڈبو کر زیادتی کی ہے اور خبردار کیا کہ امریکہ اس پر 'شدید پچھتاوا' محسوس کرے گا۔
انہوں نے اسے X پر پوسٹ کیا کہ امریکہ نے سمندر میں ظلم کیا ہے، جو ایران کے ساحل سے 2,000 میل دور ہے۔ فریگیٹ 'دینا'، جو بھارت کی بحریہ کی مہمان تھا اور اس میں تقریبا 130 ملاح سوار تھے، اسے بین الاقوامی پانیوں میں بغیر وارننگ کے نشانہ بنایا گیا' ۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس پر شدید پشیمان ہو گا۔
یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب امریکی حکام نے تصدیق کی کہ ایک امریکی آبدوز نے بحر ہند میں ایرانی فریگیٹ IRIS Dena کو ٹارپیڈو مار کر ڈبو دیااور اسے واشنگٹن کی ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی جنگ کا حصہ قرار دیا گیا۔
امریکی جنگی سکریٹری پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ اس حملے نے امریکی افواج کی پہنچ کو ظاہر کیا اسے 'خاموش موت' قرار دیا اور کہا کہ جہاز نے سمجھا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ ہے۔
سری لنکا کے حکام نے کہا کہ بدھ کی صبح سویرے جہاز نے بندرگاہی شہر گال کے قریب تقریباً 40 کلومیٹر جنوب میں ہنگامی کال کی۔
امدادی ٹیموں نے 32 عملے کے ارکان کو بچا لیا، مگر درجنوں لاپتہ رہ گئے اور حکام کو خدشہ تھا کہ کم از کم 80 ملاح ہلاک ہو سکتے ہیں۔
بحری طیاروں اور گشتی کشتیوں نے تلاش جاری رکھی، جب کہ سری لنکا کے حکام نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک جہاز مکمل طور پر ڈوب چکا تھا اور مقام پر صرف تیل بچا ہوا تھا۔
سری لنکا جس نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے میں غیرجانبداری کا اعلان کیا ہوا ہے اس نے بین الاقوامی بحری ذمہ داریوں کے تحت ہنگامی کال کا جواب دیا ہے ۔








