سیاست
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل: تہران واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدے کے حق میں نہیں
امریکی وطن سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا ہے کہ انہوں نے نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ متحد رہیں اور عمل کو آگے بڑھنے دیں۔
اسرائیل: تہران واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدے کے حق میں نہیں
US Homeland Security Secretary Kristi Noem visits Jerusalem / Reuters

امریکی  ملکی سلامتی  کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے صاف گوئی سے بات چیت کی۔

نوم نے فاکس نیوز کے پروگرام فاکس اینڈ فرینڈز میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "صدر ٹرمپ نے خاص طور پر مجھے یہاں بھیجا تاکہ وزیر اعظم کے ساتھ ان مذاکرات کے بارے میں بات کی جا سکے اور یہ واضح کیا جا سکے کہ ہمارا متحد رہنا اور اس عمل کو مکمل ہونے دینا کتنا اہم ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہ  دو ٹوک  گفتگو تھی۔"

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی اور امریکی وفود نے گزشتہ ہفتے روم میں پانچویں دور کے مذاکرات مکمل کیے، اور کچھ محدود پیش رفت کے آثار ظاہر ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا  تھاکہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں "سنجیدہ پیش رفت" ہوئی ہے اور ایک اور دور کے مذاکرات ہوں گے۔

ایران نے جوہری معاہدے کو مسترد کر دیا

اس سے قبل، ایران نے امریکہ کے ساتھ اپنے بالواسطہ جوہری مذاکرات کے دوران کسی عبوری معاہدے پر بات چیت کرنے کی تردید کی تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا، "اگر امریکہ کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو پرامن رکھنا ہے، تو یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے کبھی فوجی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔"

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ "اگر مقصد ایران کو اس کے بنیادی حقوق، جیسے کم سطح پر یورینیم کی افزودگی، سے محروم کرنا ہے، تو ہم نہیں سمجھتے کہ ایسے مذاکرات کامیاب ہوں گے۔"

ترجمان نے ان بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کو سہل بنانے کے لیے تین سال کے لیے افزودگی معطل کر سکتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا، "نہیں، ایسی کوئی بات بالکل بھی زیر غور نہیں ہے۔"

عمان تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر اہم تنازعات کو حل کرنے کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔ پچھلے مہینے سے اب تک پانچ دور کے مذاکرات ہو چکے ہیں، جن میں سے تین مسقط میں منعقد ہوئے۔

ٹرمپ نے 2018 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا اور اب ایک "بہتر" معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
یورپی یونین کے سفیر روس پر نئے پابندیوں کی تیاریوں میں
"الزامات بے بنیاد ہیں"عدالت میں اپنا مقدمہ چیلنج کروں گا: مادورو