رائے
تجزیات
5 منٹ پڑھنے
شمالی کوریا کی امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں کے درمیان متعدد بیلسٹک میزائلوں کی آزمائش
جنوبی کوریا اور جاپان کا کہنا ہے کہ سونان علاقے سے داغے گئے میزائلوں نے تقریباً 350 کلومیٹر دور جاپان کی سمندر کی طرف پرواز کی۔
شمالی کوریا کی امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں کے درمیان متعدد بیلسٹک میزائلوں کی آزمائش
فائل: سیول میں لوگ ایک ٹی وی نیوز رپورٹ دیکھ رہے ہیں جس میں شمالی کوریا کو اپنے مشرقی ساحل سے پرے سمندر کی جانب ایک مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ / Reuters
6 گھنٹے قبل

جنوبی کوریا  کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق شمالی کوریا نے ہفتہ کو جاپان کے سمندر کی طرف تقریباً دس بیلسٹک میزائل داغے، یہ واقعہ اس کے چند روز بعد سامنے آیا جب پیونگ یانگ نے جنوبی کوریا اور امریکہ کی جاری فوجی مشقوں کے بارے میں ’خطرناک نتائج‘ کی وارننگ دی تھی۔

پیونگ یانگ نے حال ہی میں سیول کے ساتھ ممکنہ سفارتی نرم رویے کی امیدوں کو دم توڑ دیا اور اپنی تازہ امن کوششوں کو ’عجیب، دھوکہ دہی پر مبنی تمثیل‘ قرار دیا۔

بیان میں کہا  گیا ہے کہ جنوبی کوریا کے نام کے مطابق ’مشرقی سمندر‘ کی طرف شمالی کوریا کے سونان علاقے سے میزائل داغے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ میزائلوں نے تقریباً 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، اور جنوبی کوریا اور امریکی حکام ان کی درست خصوصیات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

JCS نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا کی فوج کسی بھی اشتعال انگیزی کا ’زبردست ردعمل‘ دینے کے لیے تیار ہے۔

جاپانی وزارت  دفاع نے بھی تصدیق کی کہ شمالی کوریا نے متعدد بیلسٹک میزائل داغے جو زیادہ سے زیادہ تقریباً 80 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچے اور کوریائی جزیرہ نما کے مشرقی ساحل کے نزدیک جاپان کے خصوصی اقتصادی زون کے باہر گر گئے۔

سیول کے صدارتی بلیو ہاؤس نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والی اشتعال انگیزی‘ ہے اور پیونگ یانگ سے فوراً ایسے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا۔

بیان میں متعلقہ اداروں کو چوکس رہنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے، کیوں کہ یہ لانچ مشترکہ امریکی-جنوبی کوریا فوجی مشقوں کے دوران ہوا۔

یہ لانچیں اُس وقت سامنے آئیں جب چند گھنٹے قبل جنوبی کوریا کے وزیراعظم کم من سیک نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ پیونگ یانگ کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات ایک  ’اچھا‘ خیال ہو گی۔

واشنگٹن نے دہائیوں سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی قیادت کی ہے، مگر سربراہی اجلاس، پابندیاں اور سفارتی دباؤ کم اثر رکھتے آئے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پچھلے مہینوں میں پیونگ یانگ کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں اور امکان ہے کہ اس سال کم جونگ اُن کے ساتھ ایک سمٹ ہو، جو ممکنہ طور پر ٹرمپ کے مارچ کے آخر میں طے شدہ بیجنگ کے دورے کے دوران ہو۔

ٹرمپ نے اکتوبر میں ایشیا کے ایک دورے کے دوران کہا تھا کہ وہ کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے ’100 فیصد‘ تیار ہیں، جس پر شمالی کوریا کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

مہینوں تک انہی پیشکشوں کو نظر انداز کرنے کے بعد، کم جونگ اُن نے حال ہی میں کہا کہ اگر واشنگٹن پیونگ یانگ کی جوہری حیثیت کو تسلیم کر لے تو دونوں ممالک ’اچھی طرح رہ سکتے ہیں۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ہفتہ کو داغے گئے میزائلوں کی تعداد غیر معمولی تھی اور ان کا وقت بھی قابلِ توجہ تھا۔

کوریا انسٹی ٹیوٹ فار ملٹری افیئرز کے سینئر محقق ہونگ سُنگ پیو نے AFP کو بتایا کہ 'عالمی توجہ فی الوقت مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پر مرکوز ہے اور شمالی کوریا نے تاریخی طور پر ایسی فوجی اشتعال انگیزیاں اس وقت کی ہیں جب وہ اپنی موجودگی پر توجہ چاہتا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ یہی مقصد غالباً اس لانچ کے پیچھے بھی کارفرما ہے۔

سیول اور واشنگٹن نے پیر کو اپنی بہاری فوجی مشقیں ’فریڈم شیلڈ‘ شروع کیں، جس میں تقریباً 18,000 کورین فوجی حصہ لے رہے ہیں اور یہ مشقیں 19 مارچ تک جاری رہیں گی۔

جوہری قوتوں سے لیس شمالی کوریا، جس نے 1950 میں اپنے ہمسائے پر حملہ کر کے کورین جنگ کا آغاز کیا تھا، طویل عرصے سے ایسی مشقوں کو ممکنہ حملے کی مشقیں قرار دیتا رہا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں، کم جونگ اُن کی قریبی ساتھی کم یو جونگ نے کہا تھا کہ مشترکہ مشقیں ’ناقابلِ تصور طور پر خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں ’تب ہو رہی ہیں جب عالمی سلامتی کا ڈھانچہ تیزی سے بکھر رہا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں پھوٹ رہی ہیں۔‘

پیونگ یانگ نے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر قانونی جارحیت‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے امریکہ کی ’بدنامہ‘ فطرت ظاہر ہوتی ہے۔

شمالی کوریا نے حال ہی میں بحری تباہ کن چوی ہون ڈسٹرائر سے میزائل تجربے بھی کیے، اور دعویٰ کیا کہ وہ ’نیوکلئیر اسلحے کے ساتھ نیوی کو مسلح کرنے‘ کے عمل میں ہے۔

ایوہا یونیورسٹی، سیول کے پروفیسر لیف-ایرک ایزلی نے کہا کہ ’شمالی کوریا نے اپنی بحریہ کو مزید وسائل مختص کیے ہیں، ممکنہ طور پر روس کی مدد کے ساتھ۔ لیکن کم نے دیکھا ہوگا کہ امریکہ ایک ہفتے کے اندر ایرانی بحریہ  کوتباہ کرسکتا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ 'اس لیے پیونگ یانگ ممکنہ طور پر تجربات کرے گا اور جوہری کمان، کنٹرول اور ڈیلیوری سسٹمز کے بارے میں بات چیت کرے گا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ اگر اس کی بحری قوتوں پر حملہ ہوا تو وہ ناقابلِ قبول نقصان پہنچا سکتا ہے۔'