سیاست
3 منٹ پڑھنے
ہیگستھ کی جانب سے اپنے اتحادیوں سے چین کے برخلاف دفاعی اخراجات میں اضافے کی اپیل
پینٹاگون چیف پیٹ ہیگسیتھ کا اعلان ہے کہ امریکی حکومت کی دولتمند ممالک کی دفاع کی مالی معاونت کی دور ختم ہو گیا ہے، اور انہوں نے زور دیا کہ "ہمیں حامی نہیں، بلکہ شراکت دار درکار ہیں۔"
ہیگستھ کی جانب سے اپنے اتحادیوں سے چین کے برخلاف دفاعی اخراجات میں اضافے کی اپیل
ہیگستھ ایشیا سیکیورٹی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی اتحادیوں سے اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ / Reuters

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایشیائی حلیف ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے اور خطے میں اس کے غلبے کو روکنے کے لیے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں، اور کہا کہ چین کی تیزی سے فوجی تیاری تشویش ناک  ہے۔

ہیگسیتھ نے ہفتہ کو سنگاپور میں منعقدہ دفاعی رہنماؤں، افواج اور سفارت کاروں کے لیے ایشیا کے ایک اہم فورم شانگری-لا ڈائیلاگ میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ مضبوط اور زیادہ خودمختار حلیف روک تھام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کی تاریخی فوجی توسیع اور خطے اور اس سے باہر اپنی فوجی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے بارے میں بجا تشویش موجود ہے۔

ہیگسیتھ نے کہا کہ کسی بھی بالا دستی والی طاقت کے زیرِ اثر پیسیفک علاقائی توازنِ طاقت کو بکھیر دے گا۔کسی بھی ریاست، بشمول چین، کا اختیار نہیں کہ وہ بالا دستی مسلط کرے اور ہمارے ملک اور ہمارے حلیفوں کی سلامتی کو موردِ سوال بنائے۔

پینٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ اس کے ایشیائی حلیف اور شراکت دار اپنے دفاعی خرچ کو جی ڈی پی کا 3.5 فیصد تک بڑھائیں گے، جبکہ امریکہ نے اپنی فوجی صلاحیت میں 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

کوئی مفت خور نہیں

ہیگسیتھ نے زور دیا کہ حلیف کشیدگی نہیں بلکہ استحکام چاہتے ہیں۔

جو وہ چاہتے ہیں، اور جو امریکہ فراہم کرتا ہے، وہ نظم و ضبط والی طاقت، ثابت قدم عزم، اور ایسی قیادت ہے جو اعتماد کے ساتھ نرم لہجے میں بات کر سکے مگر بڑے ڈنڈے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔

ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات کئی سالوں کے مقابلے میں بہتر ہیں اور اس کی وجہ فوجی سطح پر رابطوں میں اضافہ  ہے۔

ہم اپنے چینی ہم منصبوں سے اکثر و بیشتر  ملاقاتیں کر رہے ہیں اور فوجی  رابطوں کے کھلے راستے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ حلیف دفاعی اخراجات بڑھائیں اور واضح طور پر کہا ہے کہ یورپی اور نیٹو کے شراکت داروں کو واشنگٹن پر انحصار کم کرنا چاہیے۔

ہیگسیتھ نے کہ امریکہ کی جانب سے امیر ممالک کے دفاع کی سبسڈی دینے کا دور ختم ہو چکا ہے، ہمیں اب  شراکت دار چاہئیں۔

جب تک ہر کوئی اپنے حصہ کا ذمہ دار نہیں بنتا، ہمارا اتحاد مضبوط نہیں ہوگا۔ کوئی مفت خور ی نہیں چلے گی۔

 

دریافت کیجیے
مارک روبیو کا اسرائیل-لبنان جنگ کے بتدریج خاتمے کا منصوبہ
ٹرمپ: مجوزہ معاہدے متن میں ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں سے بارے میں کوئی رعایات شامل نہیں ہیں
امریکا اور کیوبا کے اعلی فوجی افسران کی خلیج گوانتانامو میں ملاقات
ٹرمپ: ایران سے مذاکرات 'تعمیری' ہیں، لیکن محاصرہ حتمی معاہدے تک برقرار رہے گا
ایران، امریکہ سے امتیاز نہیں اپنے حقوق کی واپسی طلب کر رہا ہے، تہران
پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عام منیر دورہ ایران پر
ایران کی لبنان میں نامزد اپنے سفیر پر امریکی پابندیوں کڑی نکتہ چینی
جنوبی کوریائی صدر بھی نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں
ٹرمپ کے دورہ چین کے چند دن بعد بیجنگ میں  پوتن کی شی سے ملاقات
اسرائیل نے عراق میں ایران کے خلاف عسکری آپریشنز کے لیے دو خفیہ  فوجی اڈے تعمیر کر رکھے ہیں،رپورٹ
فیدان اور عراقچی کی بندش کے شکار امریکہ-ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال
ایران کی طرف سے امریکہ کو 'ترجیحی جنگ' سے بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کا انتباہ، ان کا سدِ باب ممکن تھا
ایران ڈپلومیسی کے ذریعے پر امن حل کا متمنی ہے، پیزشکیان کا پوپ لیوکو خط
ترکیہ، چین اور امریکہ نے بر اعظم افریقہ میں فرانس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، میکرون
امریکی میڈیا: ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کے ساتھ فائر بندی کی صورت میں 'آپریشن سلیج ہیمر' پر غور
متحدہ عرب امارات نے امریکہ-اسرائیل جنگ کے دوران ایران پر خفیہ طور پر حملے کیے، رپورٹ
امریکی کانگریس کے 30 ارکان نے روبیو  کی طرف سے اسرائیل کی جوہری صلاحیت کے بارے میں سوال نامہ
ٹرمپ کا روس-یوکرین عبوری فائر بندی کا اعلان، دونوں فریقین کی طرف سے تصدیق
امریکہ نے ایران کے حوالے سے مسودے کو نئے سرے سے تیار کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں پیش کر دیا
کیف اور ماسکو  نے الگ الگ فائر بندی کی پیشکش کے دوران روسی حملوں میں 21 یوکرینی شہری ہلاک