دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ اور ایران 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب
تاحال غیر حتمی اس معاہدے کے بروز اتوار اعلان کی توقع ہے تاہم معاہدہ آخری لمحات میں بھی ناکام ہو سکتا ہے
امریکہ اور ایران 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب
مفاہمت کی یادداشت کے مسودے کے تحت، ایران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور بحری جہازوں کو بغیر کسی محصول کے گزرنے کی اجازت دے گا۔ / Reuters

امریکہ اور ایران 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ایکسیئس نے مجوّزہ معاہدے سے واقف  امریکی عہدیدار کے حوالے سے شائع  کردہ خبر میں کہا ہے کہ آبنائے ہُرمز کو کھولنے، ایران کے تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے اور تہران جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لئے مہلت کی خاطر  امریکہ اور ایران  60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ تاحال غیر حتمی اس معاہدے کے بروز اتوار اعلان کی توقع ہے۔تاہم حکام نے خبردار کیا کہ معاہدے کے آخری لمحات میں بھی ناکام ہو سکنے کی خدشات موجود ہیں۔

مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور جہازوں کو بلا معاوضہ گزرنے کی اجازت دے گا۔

اس کے بدلے واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور تہران کو 60 روزہ مدّت کے دوران آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے محدود پابندیوں میں نرمی کرے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے اس انتظام کو "کارکردگی کے بدلے نرمی" قرار دیا اور کہا  ہےکہ اقتصادی سہولت پیشگی نہیں بلکہ ایران کے عملی اقدامات کے بعد فراہم کیا جائے گا۔

مسودے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران جوہری ہتھیار  نہیں بنائے گا، یورینیم افزودگی بند کر دےگا اور زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کرے گا۔

مزید وسیع پابندیوں میں نرمی یا ایرانی اثاثوں کی رہائی پر جنگ بندی کے دوران بات چیت ہوگی تاہم ان پر عملدرآمد صرف حتمی اور قابلِ تصدیق معاہدے کے حصے کے طور پر ہوگا۔

خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران اپنی موجودہ پوزیشن پر برقرار رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں واپس بلائی جائیں گی۔

ایسا بھی لگتا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان میں اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں سے جڑا ہوا ہے۔

خبروں کے مطابق بنیامین نیتان یاہو نے ہفتے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں اس شرط پر  خدشات کا اظۃار کیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ  دوبارہ اسلحہ جمع کرنے یا حملے شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسرائیل کو کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔

سعودی عرب، قطر، مصر، ترکیہ، پاکستان اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں نے ان سفارتی کوشش کی حمایت کی ہے۔

پاکستان، معاہدے کو حتمی شکل دینے کی خاطر فیلڈ مارشل عاصم منیر  کے دورہ تہران کے ساتھ، ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی مسائل چند گھنٹوں میں حل ہو سکتے ہیں، تاہم امریکی حکام نے کہا کہ اگر واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے تو جنگ بندی قبل از وقت بھی ختم کی جا سکتی ہے۔

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع
ترکیہ کی حوثیوں کی مکہ مکرمہ کے اطراف میں روکے گئے ڈراون حملے کی مذمت
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
ترکیہ اور آذربائیجان علاقے میں 'استحکام کے دو جزائر' کی حیثیت کے مالک ہیں، ترک وزیر خارجہ فیدان
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع