مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ جاری،ترکیہ کی مذمت
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادیں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے بھی شامل ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ جاری،ترکیہ کی مذمت
اسرائیل / AA

ترکیہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور مزید 18 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے پر غیرقانونی طور پر اسرائیلی کنٹرول کو ڈرامائی انداز میں بڑھانے کے حالیہ اسرائیلی فیصلوں کی “شدید الفاظ میں” مذمت کی ہے۔

ترکیہ، برازیل، فرانس، اسپین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ نے ایک بیان میں کہا کہ تبدیلیاں وسیع البنیاد ہیں، فلسطینی زمین کو بظاہر اسرائیلی 'ریاستی اراضی' کے طور پر دوبارہ درجہ بند کرنا، غیرقانونی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنا، اور اسرائیلی انتظام کو مزید مضبوط کرنا شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادیں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا  کہ یہ تازہ فیصلے ایک واضح رجحان کا حصہ ہیں جس کا مقصد زمینی حقائق کو بدلنا اور ناقابل قبول عملی الحاق کو آگے بڑھانا ہے، یہ اقدامات خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اور بامعنی علاقائی انضمام کے امکانات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے، اپنے بین الاقوامی فرائض کا احترام کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو قبضہ شدہ فلسطینی علاقے کی "قانونی اور انتظامی حیثیت" کو دائمی طور پر بدل دیں۔

بیان میں کہا گیا  ہے کہ یہ فیصلے اسرائیل کی بستیوں کی پالیسی میں ہونے والی پیش رفت کے تسلسل کا نتیجہ ہیں، جن میں E1 منصوبے کی منظوری اور اس کے ٹینڈر کی اشاعت شامل ہے، ایسے اقدامات فلسطینی ریاست کی بقا اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر جان بوجھ کر اور براہِ راست حملہ ہیں ۔

 انہوں نے مزید کہاکہ  ہم کسی بھی شکل کے الحاق کے خلاف ہیں ۔

انہوں نے زور دیاکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال کی تشویشناک شدت کے پیش نظر، ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کا فوری خاتمہ کرے اور ذمہ داروں کو احتساب کے حوالے کرے

وزرائے خارجہ نے خاص طور پر ماہِ رمضان کے دوران یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا،  اور خبردار کیا کہ بار بار کی خلاف ورزیاں علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی علاقے میں غیرقانونی بستیاں پھیلانے اور جبری بے دخلی اور الحاق کی پالیسیوں و  دھمکیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں ۔

مزید براں، انہوں نے اسرائیل سے کہا کہ وہ 1994 کے پیرس پروٹوکول کے مطابق فلسطینی انتظامیہ  کے واجب الادا اور روکے ہوئے ٹیکس ریونیو فوراً جاری کرے اور کہا کہ یہ رقم غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو بنیادی خدمات فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے، وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل-فلسطین تنازعہ کا حل دو ریاستی اصول کی بنیاد پر اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق خطے میں امن، استحکام اور انضمام کے لیے ضروری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیاکہ صرف ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے وجود سے ہی خطے کے عوام اور ریاستوں کے درمیان بقائے باہمی حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

دریافت کیجیے
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف