نیویارک ٹائمز نے سیٹیلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جزیرۂ خارگ جو تہران کے لیے ایک اہم تیل برآمدی ٹرمینل ہے،کے ساحل کے قریب تیل کی تہہ پھیل رہی ہے۔
جمعہ کو نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں فوری طور پر یہ واضح نہیں تھا کہ مبینہ رساؤ کا سبب کیا تھا۔ یہ رساؤ جزیرے کے مغربی ساحل کے قریب دکھا ہے۔
تیل کی تہہ باضابطہ نگرانی کرنے والی کمپنی اوربٹل EOS کے تخمینے کے مطابق جمعرات تک یہ 52 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا دکھائی دیا۔
یہ جنوب کی طرف سعودی پانیوں کی جانب پھیل رہی ہے۔
جزیرۂ خارگ ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکز ہے اور ملکی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ خلیج میں ہرمز کی تنگ، اسٹریٹجک گزرگاہ کے شمال میں واقع ہے۔
جزیرۂ خارگ میں ایران کا سب سے بڑا تیل ٹرمینل، تیل کی پائپ لائنیں، ذخیرہ ٹینک اور متعلقہ بنیادی ڈھانچہ موجود ہیں۔
بات چیت اور جنگ بندی
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز پر ایران نے 28 فروری کو بڑی حد تک اس گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔ تہران نے امریکی اڈوں اور خلیجی حلیفوں پر میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا ہے۔
اس کے بعد امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر محاصرے عائد کر دیے، جس کی وجہ سے اس علاقے میں کئی ٹینکر پھنس گئے۔
دریں اثنا، پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی شروع ہوئی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کسی معاہدے تک نہیں پہنچی۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا۔ پانچ روز بعد امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنا محاصرہ شروع کر دیا، اور دعویٰ کیا کہ اس سے ایرانی معیشت کو روزانہ تقریباً 450 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کو معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت آئندہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ دونوں فریق ثالثوں کے ساتھ مل کر 14 نکاتی مفاہمت نامے کا مسودہ تیار کر رہے ہیں جو جنگ ختم کرنے کے لیے ایک ماہ پر محیط بات چیت کے دائرۂ کار کا تعین کرے گا۔
بتایا جاتا ہے کہ مسودے میں ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی، اور ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی دوسرے ملک کو منتقل کرنے کے ممکنہ انتظامات پر بات چیت شامل ہوگی، تاہم کلیدی مسائل تا حال حل طلب ہیں۔












