ترکیہ
4 منٹ پڑھنے
مصر بھی 'مکہ معاہدے' میں شامل ہو سکتا ہے: اردوعان
مصر زمانہ قریب میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے: صدر رجب طیب اردوعان
مصر بھی 'مکہ معاہدے' میں شامل ہو سکتا ہے: اردوعان
ترک صدر رجب طیب ایردوان علاقائی سلامتی کے تعاون پر زور دے رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع پر بات کر رہے ہیں۔ [فائل فوٹو] / َAA

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے کہا ہے کہ مصر زمانہ قریب میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔مصر کی شمولیت سے اس دفاعی اتحاد کے اجتماعی سلامتی دائرۂ کار کو وسعت مل سکتی ہے۔

صدر اردوعان نے الجزیرہ کو دیئے گئے اور ہفتے کے روز نشر ہونے والے  انٹرویو میں کہا ہے کہ مکہ معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے اور اس میں یہ شرط شامل ہے کہ اگر کسی بھی دستخط کنندہ ملک کو بیرونی حملے کا سامنا ہو تو تمام فریق باہمی طور پر مربوط کارروائی کریں گے۔

تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ 7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تل ابیب اور واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف جاری مشترکہ جنگ، اسرائیل کے لبنان اور شام پر حملوں اور فلسطین میں جاری نسل کشی جنگ کے تناظر میں علاقائی دفاعی صلاحیت اور اسٹریٹجک خودمختاری کو مضبوط بنانا ہے۔

صدر اردوعان نے کہا ہے کہ انقرہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کی کوششوں کو ترجیح دے رہا ہے کیونکہ اس کا بند رہنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔  وسیع پیمانے پر جاری علاقائی تنازعے کو ختم کرنے کی کوششوں میں قطر نہایت اہم ثالثانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

تنازعے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی تھی، اور اس کی بندش نے تاریخ کے تیل کی فراہمی کے بڑے ترین بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 130 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی، عالمی مہنگائی میں اضافہ ہوا اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ توانائی درآمد کرنے والی ایشیائی معیشتیں اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئیں، تاہم معاشی حفاظتی اقدامات نے عالمی کساد بازاری کو روکنے میں مدد دی ہے۔

اردوعان: میں شام کا دورہ کروں گا

صدر اردوعان نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ شام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے شام کے استحکام کے لیے ترکیہ کی جانب سے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا اور اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے عرصے میں شام کے دورہ  کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شامی کُردوں کا ذکر کرتے ہوئے، جنہوں نے معزول بشار الاسد حکومت اور PKK/YPG تنظیم کے دباؤ کے تحت کئی برس مشکل حالات کا سامنا کیا، اردوعان نے کہا ہے کہ شامی کرد بھی امن اور استحکام کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ انقرہ خطے میں کردوں کے ساتھ اپنے روابط مضبوط بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

"غزہ کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا"

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر اردوعان نے زور دیا ہے کہ انقرہ "غزہ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا" اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اسرائیل کو حملے جاری رکھنے کا  قصوروار ٹھہرایا ہے۔

اردوعان نے کہا ہے کہ حماس نے اپنی ذمہ داریوں کو وفاداری کے ساتھ پورا کیا ہے، جبکہ اسرائیل جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔  "ترکیہ غزہ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا اور اس کی حمایت کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔"

لبنان کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے اردوعان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جاری حملے بدستور شدید تشویش کا باعث ہیں اور تنازعے کے خاتمے میں واشنگٹن کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ صدر اردوان نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترکیہ کے حالیہ دورے کے دوران ان سے گفتگو کی تھی۔

F-35 جنگی طیارے، افریقہ اور یورپی یونین

صدر اردوان نے سوڈان اور لیبیا کے لیے ترکیہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کی خودمختاری کونسل کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر عبدالفتاح البرہان کے ساتھ تعلقات "اچھے" ہیں۔

یورپی یونین کے بارے میں بات کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ چونکہ یورپ ترکیہ کو قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا دکھائی نہیں دیتا، اس لیے یورپی یونین کی رکنیت فی الحال ترجیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داریاں قائم کر رہا ہے اور بالآخر ترکیہ کو الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کا نقصان یورپ ہی کو اٹھانا پڑے گا۔

صدر اردوان نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کو F-35 جنگی طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور انقرہ اس وعدے کی تکمیل کا منتظر ہے۔

دریافت کیجیے
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
ترکیہ: دو تجارتی بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر، 10افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
پاکستان میں شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی