منگل کو امریکی سینٹرل کمانڈکے کمانڈر جنرل براڈ کوپر نے کہا کہ ایران پر مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں 50,000 سے زائد فوجی، 200 فائٹر جیٹ اور دو ایئرکرافٹ کیریئر حصہ لے رہے ہیں۔
ایک ویڈیو پیغام میں، کوپر نے کہا کہ یہ آپریشن مشرقِ وسطیٰ میں ایک وقت میں امریکی فوجی تعیناتی کا سب سے بڑا مرحلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے آغاز سے امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران بھر میں تقریباً 2,000 اہداف پر 2,000 سے زائد گولہ بارود استعمال کرتے ہوئے حملے کیے ہیں۔
کوپر کے مطابق ایران نے بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے ہیں، جن میں 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2,000 سے زائد ڈرون داغے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہم ایرانی بحریہ کو تباہ کر رہے ہیں۔ اب تک ہم نے 17 ایرانی جہاز تباہ کیے ہیں۔"
جوابی حملوں کے باوجود، کوپر نے کہا کہ فوجی حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کی امریکی فورسز اور اتحادیوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔
جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے، خطّے میں کشیدگی بڑھی ہے؛ ان حملوں میں تقریباً 800 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور اعلیٰ عسکری حکام بھی شامل ہیں۔
ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا کر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں، جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔
سینٹ کوم کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران کویت میں ایک ٹیکٹیکل آپریشن سنٹر پر ایرانی حملے میں چھ امریکی اہلکار ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے ۔









