یمنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں کے خلاف 1,208 فوجی کارروائیاں کی ہیں اور تقریباً 370 کمانڈروں اور جنگجوؤں کو "ہلاک یا غیر فعال کر دیا ہے۔
فوج کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہماری مسلح افواج نے 'آپریشن سحر ِیمن 'کے تحت اپنے جنگی فرائض کو جاری رکھتے ہوئے؛ دہشت گرد حوثی ملیشیا کے اجتماعات، نقل و حرکت، کمک، قلعہ بندیوں، فائرنگ کے ٹھکانوں اور گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے 1,208 حملے کیے ہیں۔
ان حملوں میں جنگی طیارے، ڈرونز ،فیلڈ آرٹلری اور راکٹ لانچرز استعمال کیے گئے ہیں۔"
عسکری ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں مختلف محاذوں پر حوثی ملیشیا کی تقریباً 120 گاڑیاں اور عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ ان کارروائیوں کے مخصوص وقت یا مدت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم حوثیوں نے ابھی تک اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یمنی فوج نے منگل کے روز سویرے اعلان کیا تھا کہ اس نے لحج صوبے میں حوثیوں کے قبضے سے کچھ ٹھکانے واپس لے لیے ہیں اور تعز صوبے میں اس گروپ کے حملوں کو پسپا کر دیا ہے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق، شمالی اور وسطی یمن کے صوبوں الجوف اور مآرب میں فرنٹ لائنز پر محتاط خاموشی دیکھی گئی ہے اور حالیہ گھنٹوں میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی۔
باب المندب محاذ پر، جہاں ایک دن پہلے شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، منگل کو کوئی نئی پیش رفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ دونوں میں سے کوئی بھی فریق مزید پیش قدمی کرنے یا محاذ کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
" سحر ِیمن " آپریشن 5 اکتوبر سے جاری ہے۔
یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ اس عسکری مہم کا مقصد حوثیوں کے زیرِ قبضہ اداروں پر ریاستی کنٹرول کو دوبارہ قائم کرنا اور دارالحکومت صنعا کو واپس لینا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق، حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان عسکری کشیدگی میں جولائی میں دوبارہ اضافہ ہوا؛ اس عمل میں ہزاروں لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے اور 250,000 سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے۔
یمن ستمبر 2014 سے جنگ کی حالت میں ہے، جب حوثیوں نے صنعا اور کئی دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس قبضے کے بعد مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک عسکری اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔






















