امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کا "بہت اچھا امکان" ہے۔
یہ بات انہوں نے مذاکرات کو جاری رکھنے کی اجازت دینے کے لیے ایک منصوبہ بند فوجی حملے کو ملتوی کرنے کے چند گھنٹے بعد کہی۔
ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اہم اتحادی رہنماؤں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ منگل کے روز ایران پر ہونے والے ایک طے شدہ فوجی حملے کو مؤخر کر دیں تاکہ تہران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہ سکے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
پیر کے روز ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اعلان کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ معاملات کو حل کرنے کا ایک بہت اچھا موقع موجود ہے۔ اگر ہم ان پر شدید بمباری کیے بغیر یہ کام کر سکتے ہیں، تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔"
یہ بیان امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' (Truth Social) پر کی گئی ایک پوسٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ مجھ سے قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود، اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان نے درخواست کی ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران پر کل ہونے والے اپنے منصوبہ بند فوجی حملے کو روک دیں۔"
ٹرمپ نے مزید کہا کہ خلیجی رہنماؤں نے انہیں بتایا ہے کہ "اب سنجیدہ مذاکرات ہو رہے ہیں" اور انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایک سفارتی معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی سخت ممانعت شامل ہوگی اور انہوں نے اس معاملے کو کسی بھی معاہدے کی مرکزی شرط قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہ ہونا شامل ہوگا!"
ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی رہنماؤں کے "احترام" میں انہوں نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth)، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیئل کین (Daniel Caine)، اور امریکی فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الحال اس طے شدہ فوجی آپریشن کو روک دیں۔












