ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
اسرائیل کو خفیہ اطلاعات ملیں کہ ترکیہ ممکنہ طور پر فوجی اثاثے اس ہوائی اڈے کی طرف منتقل کر رہا ہے اور اس کی معلومات واشنگٹن کے ساتھ بھی شیئر کی گئی تھیں۔
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
(فائل فوٹو) شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اور ترکیہ میں سفیر ٹام بیرک انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے ایک سیشن کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ / Reuters

انقرہ میں امریکی سفیر ٹام براک کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے پیچھے جو خفیہ اطلاعات تھیں وہ غلط تھیں۔

براک، جو شام اور عراق کے لیے امریکی خصوصی ایلچی بھی ہیں، نے ادلیب صوبے کے مشرق میں واقع متروک ابو الظهور فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیل کے فضائی حملے پر تبصرہ کیا۔

براک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ حملہ کیوں کیا گیا، مگر انہوں نے اس واقعے کے بارے میں جو معلومات انہیں موصول ہوئی تھیں وہ شیئر کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو خفیہ اطلاعات ملیں کہ ترکیہ ممکنہ طور پر فوجی اثاثے اس ہوائی اڈے کی طرف منتقل کر رہا ہے اور اس کی معلومات واشنگٹن کے ساتھ بھی شیئر کی گئی تھیں۔

براک نے بتایا کہ امریکا نے ان اطلاعات کی تفتیش کی اور اس کے اداروں نے  اس دعویٰ  کو درست نہیں پایا تھا۔

براک نے کہا کہ"ہم نے اپنے خفیہ اداروں سے مشاورت کی، اور جو جواب ہمیں ملا وہ یہ تھا کہ یہ دعویٰ درست نہیں تھا۔"

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے اسرائیلی فوج، موساد اور دفترِ وزیراعظم کے درمیان اطلاعات کے تبادلے میں کوئی غلط فہمی رہی ہو۔

براک نے زور دیا کہ نہ امریکہ اور نہ ہی ترکیہ کو اس حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔

انہوں نے ترکیہ کی افواج کو 'مضبوط اور بہادر' قرار دیا اور کہا کہ وہ 'بہت اچھی  طرح اسلحہ سے لیس ہیں  اور اپنا کام اچھی طرح جانتی ہیں'۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے دفتر کا کہنا تھا کہ ترک فوجی اس اڈے پر موجودگی قائم کرنے اور جنوبی سمت میں فوجی تنصیبات تعینات کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے ادلب کے مشرق میں واقع متروک ابو الظهور فوجی ہوائی اڈے پر حملہ کیا۔ فوری طور پر ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

ایک شامی حکام نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے اڈے پر آٹھ حملے کیے، جن میں رن وے اور ہینگر کے اندر ایک غیر فعال عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

 

دریافت کیجیے
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
ترکیہ: دو تجارتی بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر، 10افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
پاکستان میں شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی