ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ کی فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے بحری جہاز پر حملے کی مذمت
انقرہ نے کہا ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی  سمندری سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرتا ہے۔
ترکیہ کی فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے بحری جہاز پر حملے کی مذمت
A Maltese Armed Forces patrol boat was also sent to the scene after a request from the tugboat, the Maltese government said. / AA

ترکیہ نے جمعہ کے روز  فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے ایک شہری جہاز پر حملے کی مذمت کی، جس نے غزہ کے محصور عوام کے لیے خطرہ بڑھا دیا ہے، جو اسرائیل کی دو ماہ سے جاری ناکہ بندی کے باعث بھوک کے دہانے پر ہیں۔

انقرہ نے کہا ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی  سمندری سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرتا ہے۔

ٹائمز آف مالٹا نے آزادانہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ایک اسرائیلی طیارہ مالٹا کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور تقریباً تین گھنٹے تک وہاں موجود رہا، اس کے بعد واپس اسرائیل چلا گیا۔

پرواز کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق، طیارہ جزیرے کے اوپر مختصر وقت کے لیے رکا، پھر مشرق میں واقع ہرڈز بینک کے اوپر تقریباً 5,000 فٹ کی بلندی پر کئی کم بلندی کی  سورٹیاں انجام دیں۔ مجموعی طور پر، طیارہ تقریباً سات گھنٹے تک ہوا میں رہا اور پھر اپنے اصل مقام پر واپس چلا گیا۔

غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ایک انسانی ہمدردی کے جہاز، جس پر 16 افراد سوار تھے، کو دن کے اوائل میں ایک ڈرون حملے کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا۔ جہاز پر موجود افراد کو مالٹا کی افواج نے بچا لیا۔

فریڈم فلوٹیلا اتحاد کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ڈراون حملے نے جہاز کو بجلی سے محروم کر دیا اور اسے "ڈوبنے کے شدید خطرے"  سے دو چار کر دیا ۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ "نصف شب اس  بات کی تصدیق ہوئی کہ جہاز پر موجود تمام افراد محفوظ ہیں، لیکن سب نے جہاز چھوڑنے سے انکار کر دیا۔" مزید کہا گیا کہ صورتحال پر چند گھنٹوں میں قابو پا لیا گیا۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ جہاز، اب بھی بین الاقوامی پانیوں میں موجود ہے اور حکام کی نگرانی میں ہے،

اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی،  فریڈم  فلوٹیلا اتحاد نے ایک بیان جاری  کرتے ہوئے  اس حرکت کی ذمہ داری اسرائیل پر  عائد کی ہے۔

بیان میں یونیورسٹی آف کینٹ کی ڈاکٹر شہد حموری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ "اسرائیل انسانی ہمدردی کے جہازوں پر بمباری کرنے کو تیار ہے تاکہ فلسطینی عوام کو بھوکا رکھنے کی اپنی پالیسی کو برقرار رکھ سکے۔"

اقوام متحدہ کی نمائندہ برائے فلسطین فرانسسکا البانیز نے ایکس پر کہا کہ انہیں فریڈم  فلوٹیلا پر موجود افراد کی جانب سے ایک ہنگامی کال موصول ہوئی۔

انہوں نے کہا: "میں متعلقہ ریاستی حکام، بشمول سمندری حکام، سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ جہاز اور اس کے عملے کو ضرورت کے مطابق مدد فراہم کریں۔"

انہوں نے مزید کہا: "مجھے یقین ہے کہ متعلقہ حکام حقائق کا تعین کریں گے اور مناسب کاروائی کریں گے۔"

دریافت کیجیے
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
ترکیہ وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولیر کی آذربائیجان اور جارجیا کے ہم منصبوں سے ملاقات
متحدہ امریکہ نے شام کو دفاعی تجارتی پابندیوں کی فہرست سے  خارج کر دیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
ریحانلی قتل عام کا ملزم گرفتار کرتےہوئے ترکیہ لایا گیا
ٹینیسی: زہریلے انجیکشنز کے باوجود  سزائے موت پانے والی خاتون بچ گئی: وکلا
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
امریکہ:200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
میانمار : شمالی راکھائن میں کم از کم 50 افراد ہلاک
ٹوکیو میں بارشوں کا 34 واں مسلسل دن