ترکیہ صدارتی محکمہ اطلاعات کے مطابق صدر رجب طیب اردوعان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خطے کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ایک ٹیلی کانفرنس کی ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ "ایران کے ساتھ جنگ بندی کاایک تاریخی معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے۔ اب صرف اس کی حتمی منظوری باقی ہے"۔
اردوعان نے کہا ہےکہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز سے آزادانہ داخلہ و خروج کی یقین دہانی کے لئے کوئی بھی معاہدہ علاقائی استحکام کو مضبوط کرے گا۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ انقرہ، تہران کے ساتھ متوقع معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
اردوعان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "منصفانہ امن میں کوئی ہارنے والا نہیں ہوتا " اورکہا ہےکہ ترکیہ ایک ایسے نئے دور کا خواہاں ہے جس میں خطے کے ممالک ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ ہوں"۔
امن معاہدے کو حتمی شکل دینا
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ زیرِ غور تاریخی معاہدے میں امریکہ، ایران اور کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ معاہدے کے آخری نکات اور تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور انہیں جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اس فریم ورک کا مقصد تنازعات کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے مشترکہ سفارتی مذاکرات کو "بہت اچھی گفتگو" قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ مشترکہ ٹیلیفونک سربراہی اجلاس میں ترکیہ، سعودی عرب، قطر، پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اعلیٰ حکام اور رہنما شریک ہوئے تھے۔















