غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیلی فوج نے غزہ پر قبضے کے لیے 'نئے مرحلے' کا آغاز کردیا
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے جاری جارحیت کے "نئے مرحلے" کا آغاز کر دیا ہے، جس سے محصور فلسطینی علاقے میں نسل کشی میں اضافہ ہوا ہے
اسرائیلی فوج نے غزہ پر قبضے کے لیے 'نئے مرحلے' کا آغاز کردیا
/ AA

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے جاری جارحیت کے "نئے مرحلے" کا آغاز کر دیا ہے، جس سے محصور فلسطینی علاقے میں نسل کشی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے غزہ شہر پر حملے کے ابتدائی مراحل اور ابتدائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

 فوجی ترجمان ایفی ڈیفرن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہماری افواج اب غزہ شہر کے مضافات پر قابض ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج اپنے زمینی حملے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا کوڈ نام آپریشن گڈیون کیریتھئس رکھا گیا ہے۔

ڈیفرین نے دعویٰ کیا کہ حماس آج وہ حماس نہیں ہے جو آپریشن سے پہلے موجود تھی۔

ان کے مطابق، چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے 60 ہزار کے قریب   اضافی کمک  کو  ہدایت جاری کر دی ہیں ۔

ڈیفرن نے یہ بھی کہا کہ غزہ پر اسرائیل کا 75 فیصد "آپریشنل کنٹرول" ہے۔

 جبری نقل مکانی

8 اگست کو ، وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جنگی کابینہ نے غزہ شہر پر آہستہ آہستہ قبضہ کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔

اس منصوبے میں تقریبا 10 لاکھ فلسطینیوں کو شہر کے ارد گرد جنوب کی طرف دھکیلنے اور رہائشی اضلاع میں زمینی چھاپے مارنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

11 اگست کو اسرائیل نے غزہ شہر کے علاقے زیتون پر وسیع پیمانے پر حملہ کیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے بھرے روبوٹس، توپ خانے کی گولہ باری، اندھا دھند فائرنگ اور بڑے پیمانے پر رہائشیوں کی نقل مکانی سے اڑا دیا گیا۔

 اسرائیل کی نسل کشی

اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 62 ہزار 100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا ہے۔

یہ علاقہ کئی مہینوں سے جاری بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین کی جانب سے بڑے پیمانے پر بھوک کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی  اور انسانیت سوز جرائم پر نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یاو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

غزہ شہر میں ہونے والا قتل عام نسل کشی میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، اسرائیلی حکام نے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مذمت کے باوجود کھلے عام طویل مدتی قبضے کے منصوبے کو بیان کیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ